بھارتی ایئر چیف کی ڈرامہ بازی بےنقاب؛ وزیر دفاع کا نئی دہلی کو آزادانہ تصدیقی چیلنج

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے اس دعوے کو ناقابل یقین قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا کہ بھارت نے مئی میں ہونے والی کشیدگی کے دوران پاکستانی فضائیہ کے پانچ لڑاکا طیاروں اور ایک فوجی طیارے کو مار گرایا تھا۔

یہ بیانات بھارتی فریق کی جانب سے تین ماہ بعد اس تنازع کے حوالے سے پہلا دعویٰ ہیں جو دہائیوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بدترین فوجی تصادم تھا۔ اس تنازع کے دوران پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے 7 مئی کو فضائی لڑائی میں بھارت کے پانچ طیاروں کو مار گرایا، جسے بعد میں چھ قرار دیا گیا۔ بھارت کے اعلیٰ فوجی جنرل نے بھی فضائی نقصانات کی تصدیق کی تھی لیکن چھ طیاروں کے نقصان کی تردید کی۔

بھارتی ایئر چیف مارشل امر پریت سنگھ نے دعویٰ کیا کہ ہم نے کم از کم پانچ لڑاکا طیاروں اور ایک بڑے طیارے کو مار گرایا جو ممکنہ طور پر ایک جاسوس طیارہ تھا اور اسے 300 کلومیٹر کے فاصلے سے نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی طیاروں کو بھارت کے روسی S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم نے مار گرایا اور الیکٹرانک ٹریکنگ ڈیٹا کو اس کی تصدیق کے طور پر پیش کیا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے ان دعوؤں کا جواب دیاکہ بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے آپریشن سندور کے دوران پاکستانی طیاروں کو تباہ کرنے کے دعوے نہ صرف ناقابل یقین ہیں بلکہ غلط وقت پر کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات مضحکہ خیز ہے کہ بھارتی فوجی افسران کو سیاسی ناکامیوں کا چہرہ بنایا جا رہا ہے جو بھارتی سیاستدانوں کی تزویراتی ناکامیوں کا نتیجہ ہے۔ تین ماہ تک بھارت کی جانب سے کوئی دعویٰ سامنے نہیں آیا جبکہ پاکستان نے فوری طور پر عالمی میڈیا کو تفصیلی تکنیکی بریفنگ دی اور آزاد مبصرین نے بھارت کے متعدد طیاروں بشمول رافیل کے نقصان کی تصدیق کی۔

سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے بھارتی دعوے کو قابل ہنسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں طیاروں کی گنتی کرنے میں کئی ماہ لگ گئے تاکہ یہ مضحکہ خیز دعویٰ کر سکیں۔

بھارتی کانگریس کے ترجمان پون کھیرا نے کہا کہ آج کی معلومات کے بعد ہمارا سوال یہ ہے کہ جب ہماری فوج اتنی مضبوط تھی اور ہم آگے بڑھ رہے تھے تو کس کے دباؤ میں آپریشن سندور روکا گیا؟

امریکی ماہر مائیکل کگلمین نے کہا کہ یہ دعوے سچے ہوں یا نہیں ان کا وقت جب امریکہ-بھارت تعلقات بحران کا شکار ہیں سمجھ میں آتا ہے۔

پاکستان نے جو بنیادی طور پر چینی ساختہ طیاروں اور امریکی ایف-16 استعمال کرتا ہے پہلے ہی تردید کی تھی کہ بھارت نے 7 سے 10 مئی کے تنازع کے دوران اس کا کوئی طیارہ مار گرایا۔ بھارت نے پہلے چند طیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پانچ طیاروں کے مار گرائے جانے کی بات کی تھی لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس فریق کے طیاروں کی بات کر رہے تھے۔

فرانس کے ایئر چیف جنرل جیروم بیلانگر نے کہا تھا کہ انہوں نے تین بھارتی طیاروں بشمول ایک رافیل کے نقصان کے شواہد دیکھے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے ماہرین کے تجزیے کی بنیاد پر رپورٹ کیا کہ پاکستان نے کم از کم دو فرانسیسی ساختہ بھارتی طیاروں کو مار گرایا۔

Related Posts