غزہ شہر میں اسرائیلی فضائی حملے میں الجزیرہ کے معروف صحافی انس الشریف سمیت دو رپورٹرز اور تین کیمرہ مین ہلاک ہو گئے۔ یہ حملہ صحافیوں کے ایک خیمے پر کیا گیا جو اسپتال کے مرکزی دروازے کے باہر قائم تھا۔
قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ نے اسے ایک ہدف بنایا گیا حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 28 سالہ انس الشریف جو شمالی غزہ سے مستقل رپورٹنگ کر رہے تھے اپنے چار ساتھیوں محمد قریقہ، ابراہیم زاہر، محمد نوفل اور مومن علیوا کے ہمراہ اس حملے میں شہید ہوئے۔
اسرائیلی فوج نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ انس الشریف کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے نشانہ بنایا گیا جو مبینہ طور پر حماس سے وابستہ تھا اور الجزیرہ کے صحافی کے طور پر کام کر رہا تھا۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ انس حماس کے ایک دہشت گرد سیل کا سربراہ تھا اور اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں پر راکٹ حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا تاہم اس دعوے کے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو دہشت گرد قرار دینے کا اسرائیلی رجحان پریس کی آزادی کے لیے سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
سی پی جے کی علاقائی ڈائریکٹر سارہ قداح نے کہاکہ صحافی شہری ہیں اور انہیں کبھی نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ اس قتل کے ذمہ داروں کو جوابدہ بنانا ضروری ہے۔
فلسطینی صحافیوں کے سنڈیکیٹ نے اسے خونریز جرم قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔ میڈیا واچ ڈاگ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) کے مطابق، 22 ماہ سے جاری غزہ کی جنگ میں اب تک 200 سے زائد صحافی ہلاک ہو چکے ہیں۔
انس الشریف الجزیرہ کے نمایاں چہروں میں سے ایک تھے جو غزہ سے روزانہ کی بنیاد پر رپورٹنگ کر رہے تھے۔ حملے سے چند گھنٹے قبل انہوں نے ایکس پر پیغامات شائع کیے جن میں غزہ شہر پر شدید اسرائیلی بمباری کی تفصیلات اور قریبی حملوں کی ایک مختصر ویڈیو شامل تھی۔
غزہ کے مکمل محاصرے کے باعث عالمی میڈیا ادارے بشمول اے ایف پی وہاں کے حالات کی کوریج کے لیے فلسطینی صحافیوں کی تصاویر، ویڈیوز اور تحریری رپورٹس پر انحصار کرتے ہیں۔ الجزیرہ اور اسرائیل کے درمیان برسوں سے کشیدہ تعلقات ہیں اور حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل نے الجزیرہ کے دفاتر پر چھاپے مارے اور چینل پر پابندی عائد کر دی۔
اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار نے سیکیورٹی کونسل کو خبردار کیا کہ اسرائیل کی غزہ شہر پر کنٹرول بڑھانے کی منصوبہ بندی ایک اور تباہی کا باعث بن سکتی ہے جس کے خطے بھر میں سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے گروپوں نے غزہ میں دو ملین سے زائد فلسطینی شہریوں کی بدحالی اور قحط کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کو ایک نئی فوجی کارروائی کی منظوری کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ حماس کے باقی ماندہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے ہے۔ انہوں نے غیر ملکی صحافیوں کو فوج کے ہمراہ غزہ میں رپورٹنگ کی اجازت دینے کا بھی اعلان کیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








