متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان اور بیرونِ ملک موجود تمام پارٹی کارکنوں کو ان سے اور جماعت سے وفاداری کے حلف سے آزاد کر دیا گیا ہے۔
اس اعلان کے مطابق اب کوئی بھی کارکن، سابق رابطہ کمیٹی، کنوینرز، ڈپٹی کنوینرز یا کارکنان کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنے میں آزاد ہیں۔
یہ اعلان 10 اگست 2025 کو ایک عالمی کارکنان اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کے دوران کیا گیا جسے بعد ازاں سوشل میڈیا پر بھی جاری کیا گیا۔
الطاف حسین نے کہا کہ 47 برس کی مسلسل جدوجہد کے باوجودجس کا مقصد پاکستان کے مظلوم عوام، بالخصوص مہاجر قوم کے حقوق کا تحفظ تھا، وہ اس نظام کو بدلنے یا ان حقوق کو یقینی بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
آج تمام تحریکی کارکنوں کو تحریک اورمجھ سےوفاداری کے حلف سے آزاد کرتاہوں
……………………………………………آج دنیا بھر بشمول پاکستان کے تحریکی کارکنوں کے اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے جناب الطاف حسین نےکہاکہ میں گزشتہ 47 برسوں سے پاکستان کے تمام محروم ومظلوم عوام خصوصاًمہاجرعوام کے… pic.twitter.com/3zDw3jg0CP
— Altaf Hussain (@AltafHussain_90) August 10, 2025
انہوں نے ایم کیو ایم کے کارکنان کی طویل قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس جدوجہد میں ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں، لوگ لاپتہ ہوئے، بے گھر کر دیے گئے اور ان کے گھروں پر قبضہ کر لیا گیا۔
الطاف حسین نے اپنے ذاتی سانحات کا بھی ذکر کیا جن میں 1995 میں کراچی میں ان کے 77 سالہ بڑے بھائی ناصر حسین اور کم عمر بھتیجے عارف حسین کا اغوا اور قتل شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے بہنوئی اسلم ابرہیمی کو حراست میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوئی۔
الطاف حسین نے کہا کہ ان تمام قربانیوں کے باوجود وہ اپنا مشن مکمل نہیں کر سکے۔ اسی لیے انہوں نے 10 اگست 2025 سے تمام کارکنان کو حلف سے آزاد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ مہاجر برادری اور دیگر محروم طبقات کے حقوق کے لیے اپنی آواز سوشل میڈیا کے ذریعے بلند کرتے رہیں گے، کیونکہ کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ صرف خدا کے ہاتھ میں ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








