کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے ڈگاری میں غیرت کے نام پر ہونے والے دوہرے قتل کیس میں ضلعی عدالت نے ستک زئی قبیلے کے سردار شیر باز ستک زئی کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی جبکہ مقتولہ گل بانو کی والدہ کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
عدالتی کارروائی کے مطابق ملزمان نے قبل ازیں ضمانت کی درخواستیں دائر کی تھیں جن پر پیر کے روز سماعت ہوئی۔
گل بانو کی والدہ جو اپنی بیٹی کے قتل کو علانیہ درست قرار دے چکی تھیں اور سردار کی رہائی کا مطالبہ بھی کر رہی تھیں،وہ گرفتار تھیں تاہم اب عدالت نے ان کی رہائی منظور کر لی۔
سنگین جرائم کی تفتیشی ونگ پہلے ہی اس مقدمے کا چالان عدالت میں جمع کرا چکی ہے۔
یہ دل دہلا دینے والا واقعہ اُس وقت منظرِ عام پر آیا جب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں دیکھا گیا کہ ایک مرد اور عورت کو صحرائی علاقے میں مسلح افراد گولی مار کر قتل کر رہے ہیں۔
اس فوٹیج نے ملک بھر میں شدید غم و غصے کو جنم دیا اور قبائلی رسم و رواج کے نام پر قانون شکنی کی کھل کر مذمت کی گئی۔
عوامی دباؤ کے نتیجے میں بلوچستان حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سردار شیر باز ستک زئی سمیت 18 سے زائد افراد کو گرفتار کیا۔
بلوچستان ہائی کورٹ نے بھی اس واقعے پر ازخود نوٹس لیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے مطابق مقتول اور مقتولہ ایک دوسرے کے شریکِ حیات نہیں تھے بلکہ دونوں شادی شدہ اور بچوں کے والدین تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








