غزہ میں حماس کی متبادل انتظامیہ لانے کی کوششیں، نئے ممکنہ سربراہ سمیر حلیلہ کون ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

غزہ کے ممکنہ نئے حکمران سمیر حلیلہ
غزہ کے ممکنہ نئے حکمران سمیر حلیلہ، فوٹو عرب میڈیا

اسرائیل کی پسِ پردہ حمایت سے غزہ میں حماس کی متبادل انتظامیہ قائم کرنے کی کوششوں کا انکشاف ہوا ہے اور اس کٹھ پتلی انتظامیہ کی قیادت کے لیے معروف فلسطینی تاجر اور معیشت دان سمیر حلیلہ کا نام سامنے آیا ہے۔ اس حوالے سے مختلف عربی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں دعوے اور رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔

یدیعوت احرونوت سمیت اسرائیلی اخبارات اور چند عربی ذرائع کے مطابق چند ماہ سے خفیہ مذاکرات، واشنگٹن اور قاہرہ میں رابطے اور ایک لابیسٹ کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ ایک ایسی شخصیت کو غزہ کا انتظام سنبھالنے کے لیے سامنے لایا جائے جو اسرائیل، بعض مغربی طاقتوں اور بعض عرب فریقین کے لیے قابلِ قبول ہو اور یوں غزہ کے دوبارہ انتظام کی راہ ہموار کی جائے۔ رپورٹس میں یہ بھی ذکر ہے کہ اس مہم کی دستاویزات یا داخلی رابطوں کی تفصیلات امریکی محکمۂ انصاف یا دیگر فورمز پر رجسٹرڈ/پیش کی گئی ہیں۔
رپورٹس میں ایک نام آری بن مناشیہ (Ari Ben-Menashe) کا سامنے آتا ہے، یہ ایک اسرائیلی نژاد سیاسی مشیر / لابیسٹ جو کینیڈا میں مقیم ہے اور ماضی میں بین الاقوامی سطح پر حساس سیاسی مہمات میں ملوث رہا ہے۔ بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بن مناشیہ نے واشنگٹن میں اس پروپوزل کی حمایت کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس کے ماضی کے کاموں کے تناظر میں اس کی شمولیت پر کئی سوالات کھڑے کیے گئے ہیں۔ اسی کی کوششوں سے سمیر کا انتخاب زیر غور ہے۔

سمیر حلیلہ کون ہے؟
سمیر حلیلة فلسطینی کاروباری دنیا کے معروف افراد میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ PADICO (Palestine Development & Investment Co.) جیسی بڑی کمپنیوں سے وابستہ رہ چکے ہیں، کئی اقتصادی اداروں اور فورمز میں رہنمائی کرتے رہے ہیں اور فلسطینی سرکاری عہدوں پر بھی ماضی میں فائز رہے، جن میں کابینہ سیکریٹری جنرل اور وزارتِ معیشت و تجارت میں سابقہ عہدے شامل ہیں۔ اپنے تعلیمی پس منظر میں وہ اقتصادیات میں ماسٹر ہیں۔
سرکاری اور نیم سرکاری رپورٹس کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ حلیلة نے خود تسلیم کیا ہے کہ وہ اس قسم کے کردار پر بات چیت میں شامل رہے ہیں، مگر انہوں نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی عبوری انتظامی پوزیشن کے لیے فلسطینی صدر یا بااختیار فلسطینی اداروں کی منظوری اور اتفاق ضروری ہے۔ بعض رپورٹس میں حلیلة کے ممکنہ ایجنڈے کا خاکہ بھی آیا ہے، روزانہ درکار امدادی کنوے، متعدد تجارتی راستوں کی بحالی، اور بڑے پیمانے پر دوبارہ تعمیر و انتظام کے منصوبے جن کے لیے بیرونی مالی وسائل اور بین الاقوامی شراکت داری درکار ہوگی۔
فلسطینی صدارت اور بعض بااثر مقامی حلقوں نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ غزہ کے انتظام کا آئینی اور قانونی حق فلسطینی حکومت یا اس کی نامزد انتظامی کمیٹی کے پاس ہے۔ تردید کنندگان نے خبردار کیا ہے کہ بیرونی نامزدگی یا کسی ایک فریق کے ذریعے عبوری گورنر متعین کرنا خطے میں تقسیم اور حکومتی کمزور پزیری کو جنم دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مصر، سعودی عرب اور عرب لیگ کی ممکنہ رضامندی یا ناگزیر شمولیت کے معاملے پر بھی سفارتی مشاورت جاری رہنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
اس کے ممکنہ سیاسی و عملی نتائج کیا ہوسکتے ہیں؟
1۔ اختیارات اور قبولیت کا سوال: اگر کوئی بیرونی یا بین الاقوامی منظرنامے کے تحت حلیلة کو عارضی سربراہی دی گئی تو مقامی قبولیت، خاص طور پر حماس یا دیگر مقامی گروپوں کی مزاحمت، سب سے بڑا خطرہ ہوگا، جس کے بغیر ادارتی استحکام ممکن نہیں۔
2۔ بین الاقوامی شمولیت اور ذمہ داری: عرب لیگ یا بین الاقوامی ادارے اگر انتظامی نگہداشت میں شامل ہوں تو بحالی اور امداد کے بہتر راستے بن سکتے ہیں، مگر سیاسی خودمختاری اور فلسطینی نمائندگی کے سوال کھڑے ہوں گے۔
3۔ اسرائیل- فلسطین تنازع میں حکمتِ عملی: بعض مبصرین کا خیال ہے کہ ایسی تقرری اسرائیل کو غزہ پر طویل مدتی سیاسی انتظامی کنٹرول کے لیے ایک شخصی یا سول محور فراہم کر سکتی ہے، جو مقامی مزاحمت یا ریاستی باہمی تعلقات کو تبدیل کرے۔

Related Posts