پاکستان میں کاروں کی خریداری میں حیرت انگیز اضافہ، کونسی کمپنی کہاں کھڑی ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

شو روم میں کھڑی لش پش کاریں
فائل فوٹو

پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2025 میں ملک میں کاروں کی فروخت 11,034 یونٹس رہی، جو سالانہ بنیاد پر 28 فیصد اضافے کی عکاس ہے، تاہم ماہانہ بنیاد پر 49 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے منگل کو اپنی رپورٹ میں یہ اعداد و شمار پیش کیے۔

رپورٹ کے مطابق ماہانہ کمی کی بنیادی وجہ جون 2025 میں بلند فروخت کا اثر تھا، جو متوقع بجٹ تبدیلیوں سے قبل گاڑیوں کی پیشگی خریداری اور خریداروں کی جانب سے تیز رفتار ڈیمانڈ کے باعث ریکارڈ ہوئی تھی۔

سالانہ اضافہ نسبتاً مستحکم معاشی حالات، کم شرح سود اور افراطِ زر میں کمی کے باعث ممکن ہوا، جس سے صارفین کے اعتماد میں بہتری آئی۔

انڈس موٹر کمپنی (آئی این ڈی یو) کی فروخت میں سالانہ بنیاد پر دو گنا اضافہ ہوا، تاہم ماہانہ بنیاد پر 9 فیصد کمی کے ساتھ فروخت 3,337 یونٹس تک محدود رہی۔ یہ اضافہ بالخصوص ‘فارچونر اور آئی ایم وی’ سیگمنٹ میں 17 فیصد ماہانہ اضافے کی بدولت ہوا، جبکہ کرولا، یاریس اور کراس ماڈلز کی ڈیمانڈ بھی مضبوط رہی۔

ہیونڈائی نشاط کی فروخت میں سالانہ بنیاد پر 2.1 گنا اضافہ ہوا، مگر ماہانہ بنیاد پر 16 فیصد کمی کے ساتھ یہ تعداد 1,225 یونٹس رہی۔ ہیونڈائی پورٹر واحد ماڈل تھا جس میں ماہانہ 31 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ٹکسن اور ایلانٹرا کی فروخت میں بالترتیب پانچ گنا اور چار گنا سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سازگار انجینئرنگ (ایس اے زیڈ ای ڈبلیو) کی فروخت میں ماہانہ 20 فیصد کمی جبکہ سالانہ 31 فیصد اضافہ ہوا۔ ماہانہ کمی کی وجہ جون میں اضافی ڈیوٹی کے خدشے کے باعث ہونے والی پیشگی خریداری تھی، جسے بعد ازاں کمپنی نے واضح کیا کہ اس کا ہیوال کی قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

ہیوال کے نئے فیس لفٹ ماڈل کی لانچ نے بھی فروخت کو سہارا دیا اور اگست سے مزید اضافہ متوقع ہے، خاص طور پر ایچ 6 پی ایچ ای وی ویرینٹ کے آغاز کے بعد۔

ہونڈا اٹلس کارز (ایچ سی اے آر) کی فروخت جولائی 2025 میں 1,500 یونٹس رہی، جو سالانہ بنیاد پر 61 فیصد زیادہ جبکہ ماہانہ بنیاد پر 17 فیصد کم ہے۔ پاک سوزوکی موٹر کمپنی (پی ایس ایم سی) کی فروخت میں سالانہ 18 فیصد اور ماہانہ 72 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

Related Posts