اسلام آباد میں منگل کے روز پاکستان اور امریکہ کے درمیان انسداد دہشت گردی مکالمہ منعقد ہوا جس میں دونوں ممالک نے ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ نے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی اور اس کے ذیلی گروپ مجید بریگیڈ کو اپنی غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے جوپاکستان طویل عرصے سے چاہتا تھا۔
اس فیصلے کو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون اور عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف ہم آہنگ کوششوں کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں امریکی سفارت خانے کے مطابق امریکہ کے قائم مقام انسداد دہشت گردی رابطہ کار گریگری لو جیرفو اور ناتالی بیکر نے اس مکالمے میں شرکت کی، جس میں دونوں ممالک نے دہشت گردی کے عالمی خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی مشترکہ حکمت عملی کو آگے بڑھایا۔
We remain committed to countering terrorism in all its forms. Today, Acting Coordinator for Counterterrorism Gregory LoGerfo and Chargé d’Affaires Natalie Baker participated in the U.S.-Pakistan Counterterrorism Dialogue, advancing our shared resolve to combat this global threat.… pic.twitter.com/18L4KQB6xl
— U.S. Embassy Islamabad (@usembislamabad) August 12, 2025
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق اس اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ امور کے خصوصی سیکریٹری سفیر نبیل منیر اور امریکی نمائندے لو جیرفو نے کی۔
مکالمے میں کالعدم بی ایل اے، داعش خراسان اور تحریک طالبان پاکستان سمیت تمام دہشت گرد گروہوں سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی پر زور دیا گیا۔
امریکہ نے پاکستان کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کو قابو میں رکھنے کی کامیابیوں کو سراہا اور دہشت گرد حملوں میں شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی قربانیوں پر تعزیت پیش کی، جن میں جعفر ایکسپریس پر حملہ اور خضدار میں اسکول بس بم دھماکہ شامل ہیں۔
دونوں ممالک نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے دہشت گرد مقاصد کے لیے استعمال کو روکنے، مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے کی تشکیل اور سکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔
مزید برآں فریقین نے اقوام متحدہ سمیت کثیر الجہتی فورمز میں قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے امریکی نمائندے کی ملاقات میں انسداد دہشت گردی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اسحاق ڈار نے اس تعاون کو خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔
🔊 PR No.2️⃣3️⃣9️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣5️⃣
Pakistan-US Counter-Terrorism Dialogue Joint Press Statement https://t.co/6LFMV00s0a
🔗⬇️ pic.twitter.com/QKL4Vq5Ciu— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) August 12, 2025
یہ مکالمہ گزشتہ سال مئی کے بعد پہلا موقع تھا جب دونوں ممالک نے انسداد دہشت گردی کے شعبے میں اپنی شراکت داری کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔
حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس میں پاکستان کے آرمی چیف کا امریکہ کا دو بار دورہ، امریکی صدر سے ملاقات، تجارتی معاہدوں میں پیش رفت، اور معدنیات و توانائی کے شعبے میں امریکی سرمایہ کاری کی دلچسپی شامل ہے۔
امریکی اعلیٰ عسکری قیادت نے بھی بلوچستان اور داعش خراسان کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہا ہے۔
مبصرین کے مطابق حالیہ سفارتی رابطے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسلام آباد اور واشنگٹن خطے میں انسداد دہشت گردی اور اسٹریٹجک تعاون کے حوالے سے ہم آہنگی کی نئی سطح پر پہنچ چکے ہیں جس کا اثر جنوبی ایشیا کی مجموعی سلامتی پر بھی پڑے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








