عمران خان کیخلاف 9 مئی کے کیس کی سماعت! چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ کیوں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

CJP Afridi questions LHC’s ‘final observations’ in Imran’s May 9 bail cases
ONLINE

اسلام آباد میں منگل کے روز چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی آٹھ مختلف مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے لاہور ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں دیے گئے کچھ تمی مشاہدات پر سوال اٹھایا۔

یہ مقدمات 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات سے متعلق ہیں جن میں کور کمانڈر لاہور کے گھر پر حملے کا کیس بھی شامل ہے۔

نومبر 2024 میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عمران خان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی جسے بعد ازاں 24 جون کو لاہور ہائی کورٹ نے بھی خارج کر دیا۔ اس فیصلے کے خلاف عمران خان نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ کیا ضمانت کے مقدمے میں عدالت حتمی مشاہدات دے سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس وقت عدالت قانونی نکات میں نہیں جائے گی کیونکہ ایسا کرنے سے کسی بھی فریق کا کیس متاثر ہو سکتا ہے۔

چیف جسٹس نے دونوں جانب کے وکلا کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت تک قانونی سوالات پر اپنی تیاری مکمل کریں اور واضح کیا کہ سپریم کورٹ ایسا کوئی مشاہدہ نہیں دے گی جو مقدمے پر اثر انداز ہو۔

سماعت میں عمران خان کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر پیش ہوئے جبکہ ریاست کی نمائندگی پنجاب کے اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے کی۔ عدالت نے پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 19 اگست تک ملتوی کر دی۔

عمران خان کی اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان پر 9 مئی کے پرتشدد واقعات میں سازش اور اشتعال دلانے کا الزام بے بنیاد ہے کیونکہ اس وقت وہ قومی احتساب بیورو کی تحویل میں تھے، اس لیے ان کا کسی بھی تشدد میں ملوث ہونا ناممکن تھا۔

درخواست میں کہا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ نے ایسے شواہد پر انحصار کیا جو من گھڑت اور پہلے سے تیار شدہ ھے، جن میں پولیس اہلکاروں کے پرانے، ناقابل اعتماد اور تاخیر سے ریکارڈ کیے گئے بیانات شامل تھے۔

لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ جسٹس سید شہباز علی رضوی اور جسٹس طارق محمود باجوہ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو عمران خان کے کردار کو ظاہر کرتے ہیں۔

فیصلے میں دو پولیس اہلکاروں اور پراسیکیوشن گواہوں کے بیانات شامل کیے گئے جنہوں نے خفیہ طور پر پاکستان تحریک انصاف کی اُن میٹنگز میں شرکت کا دعویٰ کیا جن میں مبینہ طور پر عمران خان نے دیگر رہنماؤں کو ہدایت دی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے ممکنہ گرفتاری کی صورت میں فوجی تنصیبات پر حملہ کیا جائے۔

یہ میٹنگز مبینہ طور پر 4 مئی کو چکری، راولپنڈی کے ایک آرام گاہ میں اور 7 سے 9 مئی 2023 کے دوران لاہور کے زمان پارک میں عمران خان کی رہائش گاہ پر ہوئیں۔

Related Posts