دہشتگردی کے خلاف جنگ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک پہنچ گئی؛ 500 سے زائد سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

وفاقی حکومتِ نے آن لائن شدت پسندی کے خلاف کارروائی تیز کرتے ہوئے 500 سے زائد سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کروا دیئے ہیں جوکہ کالعدم شدت پسند تنظیموں سے منسلک تھے۔

یہ اکاؤنٹس کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان، بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ جیسے گروہوں سے جڑے ہوئے تھے جنہیں اقوامِ متحدہ، امریکہ اور برطانیہ دہشتگرد تنظیمیں قرار دے چکے ہیں۔ ان میں سے کئی اکاؤنٹس کے فالورز کی مجموعی تعداد 20 لاکھ سے بھی زیادہ تھی۔

وزارتِ داخلہ، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کی مشترکہ کاوشوں سے یہ اکاؤنٹس فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، واٹس ایپ اور ٹیلیگرام جیسے پلیٹ فارمز سے ہٹائے گئے۔

رپورٹ کے مطابق فیس بک اور ٹک ٹاک نے 90 فیصد سے زیادہ اکاؤنٹس پر کارروائی کی جبکہ ٹیلیگرام (جو پاکستان میں پہلے سے بند ہے) نے بھی خاطر خواہ تعاون کیا تاہم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور واٹس ایپ کا ردعمل مایوس کن رہا جہاں صرف 30 فیصد اکاؤنٹس ہٹائے گئے۔

جولائی 2025 میں وزیرِ مملکت طلال چوہدری اور ایڈووکیٹ بیرسٹر عقیل نے میڈیا بریفنگ میں زور دیا کہ مقامی و بین الاقوامی میڈیا ادارے اے آئی پر مبنی خودکار فلٹرنگ سسٹم اپنائیں تاکہ شدت پسند مواد کو فوری روکا جا سکے۔

حکومت پاکستان نے عالمی اداروں اور سوشل میڈیا کمپنیوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ شدت پسندی کے آن لائن پرچار کو روکنے میں سنجیدہ کردار ادا کریں۔حکام کے مطابق شدت پسند گروہ سوشل میڈیا کو نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں جسے روکنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

Related Posts