متاثرہ افراد میں پاکستانی اور بھارتی شامل؟ کویت میں زہریلی شراب سے 13 ہلاک، 22 نابینا ہوگئے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

کویت میں زہریلی شراب پینے سے 13 ایشیائی تارکین وطن جان کی بازی ہار گئے جبکہ 22 افراد آنکھوں کی بینائی کھو چکے ہیں۔ میتھانول سے آلودہ شراب سے متاثرہ 31 افراد کو اینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جارہی ہے، اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے شراب سے متاثرہ افراد میں پاکستانی اور بھارتی شہری بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

کویت وزارتِ صحت نے بتایا کہ اب تک میتھانول سے آلودہ شراب پینے کے باعث 13 ایشیائی تارکینِ وطن جان کی بازی ہار چکے ہیں، اس دوران 63 افراد زہریلی شراب سے متاثر ہوئے جن میں سے 31 کو سانس لینے کے لیے وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑی، 51 کو فوری ڈائیلاسز دیا گیا اور 22 افراد مستقل اندھے پن یا شدید بصری نقصان کا شکار ہوئے۔

وزارتِ صحت نے خبردار کیا کہ میتھانول جو کیمیائی صنعتوں اور پینٹس میں استعمال ہونے والا زہریلا مادہ ہے انسانی جسم کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ اس کا معمولی مقدار میں استعمال بھی بینائی ختم کرنے یا موت کا باعث بن سکتا ہے۔

متاثرین میں زیادہ تر جنوبی ایشیا کے تارکینِ وطن شامل ہیں جو کویت میں تعمیرات گھریلو خدمات اور دکانوں پر کام کرتے ہیں۔ یہ طبقہ غیر قانونی اور غیر معیاری شراب کا سب سے زیادہ شکار ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ کویت میں 1964 سے شراب کی درآمد پر پابندی ہے جبکہ 1980 کی دہائی سے اسے پینا جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود غیر قانونی شراب کی تجارت جاری ہے جو اکثر غیر محفوظ حالات میں تیار کی جاتی ہے۔

Related Posts