کراچی میں نوعمر لڑکی کے اغوا اور زیادتی کے مجرم کو پچاس سال قید کی سزا

تازہ ترین

تازہ ترین

Court denies bail to doctor in teenage bride's marital rape, torture case
(فوٹو؛ فائل)

کراچی: مقامی عدالت نے نو عمر لڑکی کے اغوا، جنسی زیادتی اور دھمکیوں کے مقدمے میں ملزم شہباز عرف شابی کو مجموعی طور پر پچاس سال قید اور سولہ لاکھ پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنادی۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (ایسٹ) نصیر نور خان نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں کامیاب رہا۔

استغاثہ کے مطابق، جون 2021 میں متاثرہ لڑکی گھر سے سامان لینے نکلی تو راستے میں ملزم شہباز نے اسے بتایا کہ اس کے والد پر حملہ ہو رہا ہے اور اسے فوری ساتھ چلنے کا کہا۔

راستے میں ملزم نے مبینہ طور پر لڑکی کو نشہ آور چیز پلا کر بے ہوش کردیا اور دو ساتھیوں کے ہمراہ ایک نامعلوم مقام پر لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔

مزید بتایا گیا کہ ملزم نے لڑکی کے والد کو بھی دھمکیاں دیں کہ اگر بیٹی کو دوبارہ ان کے پاس نہ بھیجا گیا تو وہ قابل اعتراض ویڈیوز جاری کردے گا۔ متاثرہ کے والد نے تھانہ بریگیڈ میں مقدمہ درج کرایا جس پر پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا۔

اس سے قبل 30 جولائی 2025 کو کراچی پولیس نے کھوکھراپار میں ایک 16 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی اور قتل کے مقدمے میں مشتبہ شخص کو گرفتار کیا تھا۔ یہ گرفتاری 11 جولائی کو پیش آنے والے واقعے کے بعد ڈی این اے ٹیسٹ میں مماثلت ثابت ہونے پر عمل میں آئی۔

پولیس کے مطابق، ملزم محمد حذیفہ مقتولہ کا پڑوسی تھا، جس نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ متاثرہ لڑکی اس کی بہن کے بارے میں پوچھنے اس کے گھر آئی تھی، جہاں اس وقت کوئی اور موجود نہیں تھا۔

تفتیش کے دوران 20 سے زائد افراد کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے گئے، جن میں سے ایک کا ریکارڈ جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد سے میل کھا گیا۔ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد جیل منتقل کردیا گیا۔

Related Posts