بونیر: خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں مسلسل بارشوں اور سیلابی ریلوں نے وسیع پیمانے پر تباہی مچادی ہے،ضلع بونیر میں جاں بحق افراد کی تعداد 75 تک جا پہنچی ہے جن میں 25 خواتین اور 18 بچے شامل ہیں۔
ڈپٹی کمشنر بونیر کاشف قیوم نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سوات میں بھی شدید بارشوں اور طغیانی نے متعدد علاقوں کو متاثر کیا، جہاں 5 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں اسکول کے 8 بچے بھی شامل ہیں۔
سوات کے مینگورہ، ملا بابا، حاجی بابا، خوازہ خیلہ اور مرغزار سمیت کئی علاقے زمینی رابطے سے محروم ہیں جبکہ متعدد مکانات اور دکانیں سیلابی پانی میں بہہ گئیں۔
بونیر کے پیربابا بازار اور اس سے ملحقہ محلے مکمل طور پر زیرِ آب آچکے ہیں۔ گوکند میں ایک مسجد شہید ہو گئی اور درجنوں مویشی ہلاک ہوگئے۔
دشوار گزار مقامات تک رسائی کے لیے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ریسکیو آپریشن جاری ہے تاہم مختلف مقامات پر راستے بند ہونے کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات درپیش ہیں۔
علاقے میں لاپتہ افراد کی حتمی تعداد تاحال معلوم نہیں ہو سکی، حکام کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی کے اترنے کے بعد ہی اصل صورتحال واضح ہوگی۔
دریاے سوات اور قریبی ندی نالوں میں شدید طغیانی کے باعث سیکڑوں افراد پھنسے ہوئے ہیں اور فوری حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق اب تک 30 گھروں کو نقصان پہنچا ہے اور محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ وقفے وقفے سے جاری بارشوں کا سلسلہ 21 اگست تک برقرار رہنے کا امکان ہے، جس سے سیلابی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








