منٹوں میں سب کچھ تہس نہس! جانتے ہیں کلاؤڈ برسٹ ہوتا کیا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Lightning strike kills man, 23 animals in Thar Parkar
ONLINE

کلاؤڈ برسٹ میں بہت کم وقت میں غیر معمولی بارش کسی محدود علاقے پر برستی ہے۔ یہ بارش اتنی شدید ہوتی ہے کہ چند منٹوں یا گھنٹوں میں اتنی مقدار زمین پر آ جاتی ہے جتنی عام طور پر کئی دنوں میں ہوتی ہے۔

اس کے نتیجے میں اچانک آنے والے سیلاب، زمین کھسکنے کے واقعات، کھڑی فصلوں کی تباہی اور انسانی جانوں کا ضیاع ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اس مظہر کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے اس کی سائنسی بنیاد، وجوہات، نقصانات اور بچاؤ کے طریقہ کار پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔

کلاؤڈ برسٹ بنیادی طور پر ایک شدید بارش کا واقعہ ہے جس میں ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں سو ملی میٹر یا اس سے زیادہ بارش کسی مخصوص علاقے پر برستی ہے۔

یہ زیادہ تر پہاڑی خطوں میں ہوتا ہے جہاں گرم اور مرطوب ہوا تیزی سے بلند ہو کر ٹھنڈی فضا سے ملتی ہے اور بادل شدید دباؤ کے ساتھ تشکیل پاتے ہیں۔ جب بادل اپنی گنجائش سے زیادہ پانی جمع کر لیتے ہیں تو اچانک یہ بارش کے طوفانی ریلا کی شکل میں برستے ہیں، جسے کلاؤڈ برسٹ کہا جاتا ہے۔

(فوٹو؛ رائٹرز)

اس مظہر کے لیے پہاڑی خطے سب سے زیادہ موزوں ہوتے ہیں کیونکہ یہاں ہوا کا دباؤ اور درجہ حرارت کا فرق بارش کے امکانات بڑھا دیتا ہے۔ زیادہ نمی، تیز درجہ حرارت کا تضاد اور کم ہوا کی رفتار وہ عوامل ہیں جو کلاؤڈ برسٹ کو جنم دیتے ہیں چونکہ یہ بارش ایک چھوٹے علاقے تک محدود رہتی ہے، اس لیے اس کے اثرات انتہائی شدید اور فوری نوعیت کے ہوتے ہیں۔

کلاؤڈ برسٹ کے نقصانات بہت بھیانک ہو سکتے ہیں۔ سب سے پہلا اثر انسانی جانوں کے ضیاع کی صورت میں سامنے آتا ہے، جب اچانک آنے والے فلیش فلڈز لوگوں، گھروں اور گاڑیوں کو اپنے ساتھ بہا لے جاتے ہیں۔

اس کے ساتھ انفراسٹرکچر جیسے پل، سڑکیں اور مواصلاتی نظام شدید متاثر ہوتے ہیں۔ زرعی نقصان بھی نمایاں ہوتا ہے کیونکہ کھڑی فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں اور زمین کی زرخیزی کو مٹی کے کٹاؤ سے نقصان پہنچتا ہے۔ جنگلات اور حیاتیاتی نظام بھی متاثر ہوتے ہیں کیونکہ پانی کے تیز بہاؤ سے جنگلی حیات کے مسکن ختم ہو جاتے ہیں۔

دنیا میں کئی بڑے کلاؤڈ برسٹ واقعات تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ 2010 میں بھارتی علاقے لیہہ میں کلاؤڈ برسٹ سے دو سو سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور سیکڑوں مکانات منہدم ہوگئے۔ 2021 میں اتراکھنڈ میں درجنوں دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے، جبکہ 2022 میں پاکستان کے ضلع سوات میں شدید فلیش فلڈز نے تباہی مچائی اور سڑکیں و پل بہا لے گئے۔ یہ واقعات اس مظہر کی ہولناکی کو واضح کرتے ہیں۔

کلاؤڈ برسٹ اور فلیش فلڈ ایک دوسرے سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔ چونکہ بارش بہت مختصر وقت میں غیر معمولی مقدار میں برستی ہے، زمین پانی جذب کرنے میں ناکام رہتی ہے اور نتیجے میں فوری طور پر تیز بہاؤ سامنے آتا ہے جو سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مظہر انسانوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہوتا ہے۔

اس کی پیش گوئی انتہائی مشکل ہے کیونکہ یہ بارش چند منٹوں میں بنتی اور برس جاتی ہے۔ موسمیاتی ریڈار بھی اکثر اس کو بروقت شناخت کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ پہاڑی خطوں میں درست ڈیٹا کی کمی بھی پیش گوئی کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔

(فوٹو؛ فائل)

اس تباہ کن مظہر سے بچاؤ کے لیے حکومتوں اور عوام دونوں کو اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومتی سطح پر جدید موسمیاتی ریڈارز نصب کرنا، ہنگامی انتباہی نظام تیار کرنا اور سیلابی ڈھانچوں کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ عوامی سطح پر پہاڑی یا دریا کے کنارے خطرناک علاقوں سے گریز، بارش کے دوران محفوظ مقامات پر منتقل ہونا اور مقامی وارننگز پر عمل کرنا اہم اقدامات ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیاں کلاؤڈ برسٹ کے واقعات میں اضافہ کر رہی ہیں۔ درجہ حرارت بڑھنے اور فضاء میں زیادہ نمی جمع ہونے سے بادل زیادہ طاقتور ہو جاتے ہیں اور اچانک بارشوں کے امکانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس لیے یہ مظہر مستقبل میں مزید خطرناک ہو سکتا ہے۔

مجموعی طور پر کلاؤڈ برسٹ ایک ایسا قدرتی عمل ہے جو اگرچہ نایاب ہے لیکن جب وقوع پذیر ہوتا ہے تو تباہی کی صورت میں اس کے اثرات ناقابلِ فراموش ہوتے ہیں۔ اس سے بچاؤ کا واحد راستہ بروقت تیاری، جدید نظام اور عوامی شعور ہے۔

Related Posts