کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں آئندہ دنوں کے دوران بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے جس کے باعث شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی کا موسم اس وقت شدید گرم اور مرطوب ہے، سمندری بادل کمزور پڑ گئے ہیں اور سمندری ہواؤں کی رفتار بھی غیر معمولی طور پر سست ہو چکی ہے۔
درجہ حرارت 31 سے 32 ڈگری سینٹی گریڈ سے بڑھ کر 35 سے 36 ڈگری تک پہنچ گیا ہے، جو بارش کے امکانات کو مزید تقویت دے رہا ہے۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ سندھ کے ساحلی علاقوں کے سامنے کم شدت کا ایک بارشی نظام موجود ہے، جو سمندری ہوا کو روک رہا ہے۔
اسی دوران بھارت کے وسطی حصوں میں ایک طاقتور بارش کا سسٹم موجود ہے، جو آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں گجرات کے قریب پہنچنے کے بعد سندھ کی سمت بڑھ سکتا ہے۔
اس نظام کے اثرات 18 یا 19 اگست کی رات سے سندھ پر ظاہر ہوں گے اور امکان ہے کہ بارش کا سلسلہ اگلے 4 سے 6 دنوں تک جاری رہے۔
تھرپارکر، ننگرپارکر اور میرپورخاص سمیت مختلف علاقوں میں بادل بننے کا عمل شروع ہو چکا ہے، جس سے ہلکی بارش کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
کراچی کے شہریوں کے لیے خاص طور پر خبردار کیا گیا ہے کہ 18 اگست کی رات سے 22 اگست تک بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہ سکتا ہے۔
اس دوران شہر کے مختلف علاقوں جیسے ڈی ایچ اے سٹی، بحریہ ٹاؤن، گھارو، کیٹی بندر، ٹھٹھہ اور بدین میں بھی بارش کے امکانات ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، بارش روزانہ لازمی نہیں ہوگی بلکہ مخصوص دنوں پر وقفے وقفے سے برسنے کا امکان ہے۔ تاہم ایک یا دو شدید بارش کے اسپیل کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، دادو، نوشہروفیروز اور دیگر شہروں کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ان دنوں میں نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ماہرین نے مزید بتایا کہ جیسے ہی موجودہ بارشی نظام 20 اگست کو سندھ سے گزرے گا، ایک دوسرا طاقتور سسٹم گجرات کے اوپر سے حرکت کرتا ہوا 21 یا 22 اگست کو سندھ کے قریب پہنچے گا۔
اس کے زیر اثر 22 سے 24 اگست تک بارشوں کا ایک اور سلسلہ متوقع ہے، جو کئی علاقوں میں شدید بارش اور شہری سیلاب کا باعث بن سکتا ہے۔
موسمیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ دونوں سسٹمز کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے سندھ میں مجموعی طور پر 6 سے 8 دن تک بارشوں کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔
اس دوران شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ نشیبی علاقوں میں غیر ضروری آمد و رفت سے گریز کریں اور بارش کی تازہ ترین اطلاعات پر نظر رکھیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








