قومی غیرت کو جھنجھوڑ دینے والی ویڈیو؛ سبز ہلالی پرچم کی بے حرمتی اور پاکستان مخالف نعرے مگر ملزم آزاد

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

سوشل میڈیا پر حال ہی میں ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی جس میں ایک نوجوان کو پاکستان کے سبز ہلالی پرچم سے اپنی چپل صاف کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ویڈیو میں وہ نہ صرف پرچم کی توہین کرتا نظر آیا بلکہ ملک کے خلاف نعرے بھی بلند کر رہا تھا۔

اس عمل نے سوشل میڈیا صارفین خصوصاً محب وطن شہریوں میں شدید غم و غصہ اور بے چینی پیدا کی۔ عوام نے اس حرکت کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنے جذبات کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ اس شخص کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔

سوشل میڈیا صارفین شہریوں نے حکومت، پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور دیگر متعلقہ اداروں سے درخواست کی کہ ملزم کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرکے اسے سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسی حرکت کرنے کی جرات نہ کرے۔

دوسری جانب کراچی پولیس ایک اور نوجوان کو قومی پرچم کی بے حرمتی کے الزام میں گرفتار کیا ہے، ملزم کا تعلق آبائی تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ سے ہے لیکن وہ کراچی کے لی مارکیٹ علاقے میں رہائش پذیر ہے جہاں وہ بنیان کا ٹھیلا لگا کر اپنا روزگار کماتا ہے۔

ڈسٹرکٹ سٹی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) عارف عزیز نے میڈیا کو بتایا کہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر لیاری کے علاقے بغدادی میں چھاپہ مار کارروائی کی گئی، جس کے نتیجے میں ملزم نعمان کو حراست میں لیا گیا۔

ایس ایس پی عارف عزیز نے یہ بھی بتایا کہ گرفتاری کے بعد ملزم نے اپنے ویڈیو بیان میں اپنے عمل پر شرمندگی کا اظہار کیا اور ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ کبھی ایسی حرکت نہیں کرے گا۔

پولیس حکام کے مطابق باجوڑ کے رہائشی ملزم نعمان نے 13 اگست 2025 کو یہ ویڈیو بنائی تھی جس میں اس نے پاکستانی پرچم کی بے حرمتی کی۔

پولیس حکام نے ملزم کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی۔ ملزم کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، اور مزید تفتیش کے لیے اسے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

اس واقعے نے نہ صرف شہریوں کے جذبات کو مجروح کیا بلکہ قومی پرچم کے تقدس کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ عوام کا کہنا ہے کہ پرچم کسی بھی ملک کی عزت اور شناخت کا نشان ہوتا ہے اور اس کی بے حرمتی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر جاری بحث میں کئی صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے سخت قوانین نافذ کیے جائیں اور عوام میں قومی شعور کو فروغ دینے کے لیے آگاہی مہمات چلائی جائیں۔

Related Posts