اب بچے پیدا کرنے پر ملیں گے 6 لاکھ روپے؛ حکومت کا ناقابل یقین فیصلہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

تائیوان میں کم ہوتی شرح پیدائش کو بڑھانے کے لیے حکومت نے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ اب جو جوڑے بچے پیدا کرنے کے لیے ان وٹرو فرٹیلائزیشن (IVF) کا انتخاب کریں گے انہیں 6 لاکھ روپے تک کی مالی امداد دی جائے گی۔

پہلے حکومت IVF کے عمل کے لیے تقریباً 3 لاکھ روپے کی امداد فراہم کرتی تھی لیکن اب اس رقم کو دگنا سے زیادہ کر دیا گیا ہے۔ اس نئی اسکیم کو جلد ہی کابینہ سے منظوری ملنے کی توقع ہے جس کے بعد اسے پورے ملک میں نافذ کیا جائے گا۔

نئی پالیسی کے تحت IVF کے دوسرے سے چھٹے مرحلے کے لیے وہی مالی امداد دی جائے گی جو پہلے مرحلے میں دی جاتی ہے۔ چونکہ IVF کا عمل مہنگا اور کئی مراحل پر مشتمل ہوتا ہے اس لیے یہ امداد ان جوڑوں کے لیے بڑی راحت ثابت ہوگی جو مالی مسائل کی وجہ سے اس علاج سے گریز کرتے تھے۔

تائیوان کے علاوہ جاپان، جنوبی کوریا اور چین جیسے ایشیائی ممالک بھی کم شرح پیدائش کے مسئلے سے دوچار ہیں۔ نوجوان نسل شادی اور بچوں سے متعلق فیصلوں سے کنارہ کشی اختیار کر رہی ہے، جس سے آبادی میں کمی اور مستقبل میں افرادی قوت کی کمی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ چین میں ون چائلڈ پالیسی کے اثرات کی وجہ سے بھی نوجوان افرادی قوت کم ہوئی ہے۔

چین نے جنوری 2025 سے ایک نئی چائلڈ کیئر سبسڈی شروع کی ہے جس کے تحت تین سال سے کم عمر کے ہر بچے کے لیے سالانہ 43,000 روپے کی امداد دی جائے گی۔ اس کے علاوہ مختلف صوبوں میں بچوں کی پیدائش پر اضافی مراعات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔

اسی طرح روس میں بھی آبادی کی کمی کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے حکومت نے پہلے بچے کی پیدائش پر 6,65,301 روپے اور دوسرے بچے کی پیدائش پر 8,70,009 روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ یہاں تک کہ اسکول کی طالبات کو حمل کے دوران مالی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

Related Posts