بونیر کے بعد صوابی میں کلاؤڈ برسٹ اور لینڈسلائیڈنگ؛ ہولناک تباہی، درجنوں افراد لاپتہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

صوابی کے علاقے دالوڑی گاؤں میں کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا جس سے متعدد گھر زیر آب آ گئے اور کئی افراد بہہ گئے۔ ڈپٹی کمشنر صوابی نے بتایا کہ پہاڑی علاقوں میں لینڈسلائیڈنگ کے واقعات بھی رونما ہوئے جس سے حالات مزید خراب ہو گئے۔

سرکاری حکام کے مطابق امدادی ٹیمیں بشمول ریسکیو اہلکار فوری طور پر متاثرہ علاقوں کی طرف روانہ کر دی گئی ہیں اور ہری پور اور مردان سے بھی اضافی ریسکیو ٹیمیں طلب کی گئی ہیں۔

سوات میں بارشوں سے بڑے پیمانے پر نقصان

سوات کے مختلف علاقوں بشمول ظاہر آباد، شہید آباد، مکان باغ، ملا بابا، رحیم آباد، کوکورائی، منگلور اور دیگر میں شدید بارشوں نے تباہی مچائی۔ مقامی لوگوں کے مطابق، مکان باغ اور ملا بابا جیسے علاقوں میں چار دن سے بجلی منقطع ہے، اور ملا بابا روڈ ابھی تک ٹریفک کے لیے بحال نہیں ہو سکی۔ پینے کا صاف پانی کمیاب ہو گیا ہے، اور ناقص نکاسی آب کی وجہ سے روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق، 400 مکانات کو نقصان پہنچا، جن میں سے کئی مکمل طور پر تباہ ہو گئے، جبکہ 124 تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچا، جن میں سے تین مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔ 15 اگست کو ہونے والے کلاؤڈ برسٹ اور طوفانی بارش سے 22 افراد جاں بحق ہوئے۔ انتظامیہ متاثرہ علاقوں تک رسائی اور امداد کی فراہمی کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہی ہے۔

ملک گیر اموات کے اعداد و شمار

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق، مون سون بارشوں کے نتیجے میں ملک بھر میں اب تک 660 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان خیبر پختونخوا میں ہوا، جہاں 392 افراد جاں بحق ہوئے۔ پنجاب میں 164، سندھ میں 29، بلوچستان میں 20، گلگت بلتستان میں 32، آزاد کشمیر میں 15، اور اسلام آباد میں 8 اموات رپورٹ ہوئیں۔

Related Posts