کراچی میں چند گھنٹوں کی بارش نے شہری انتظامیہ کے بلند بانگ دعوؤں کی حقیقت کھول کر رکھ دی۔ سٹی کورٹ کے اطراف میں پانی جمع ہونے سے وکلاء اور سائلین کو سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔
شہر کے کئی علاقوں میں شہری سیلاب کی صورتحال نے روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کیا۔ نارتھ کراچی سیکٹر 11-بی کے قریب نالوں کا پانی باہر نکل آیا جبکہ یوپی موڑ سے پاور ہاؤس چورنگی تک سڑک پر پانی کھڑا ہوگیا۔ علامہ اقبال لائبریری اور اسلامیہ کالج کے اردگرد کی سڑکیں بھی پانی میں ڈوب گئیں۔
لیاقت آباد کے چونا ڈیپو کے قریب سڑک مکمل طور پر زیر آب آگئی جس سے ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی۔ ٹریفک پولیس نے متبادل راستوں پر دوطرفہ ٹریفک چلانے کی کوشش کی۔ ضلع وسطی میں معمولی بارش کے باوجود سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا جو سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ رہا۔
کے ڈی اے چورنگی پر پانی کے جماؤ سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ سکشن پمپ تو موجود تھے لیکن عملے کی عدم موجودگی نے مسائل کو مزید بڑھا دیا۔ نارتھ ناظم آباد، ناظم آباد، گولیمار چورنگی اور سینیٹری مارکیٹ کی شاہراہیں بھی پانی میں ڈوبی رہیں۔
کے ایم سی بلڈنگ اور پرانے شہر کے نشیبی علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب محکمہ موسمیات نے شہر قائد میں اگلے تین دنوں کے دوران درمیانی سے شدید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی کے کئی علاقوں میں مون سون کی طاقتور ہوائیں اثر انداز ہو رہی ہیں۔ منگل سے جمعرات تک کراچی میں وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے جبکہ کچھ مقامات پر بارش درمیانی جبکہ کچھ جگہوں پر موسلادھار ہو سکتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








