ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے بانی و سابق وزیراعظم عمران خان کو 9 مئی 2023ء کے واقعات کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے فوجی تنصیبات پر حملوں کے مقدمات میں سزا سنائی گئی اور انہیں جیل بھیج دیا گیا، قانونی اور عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر عمران خان جائے وقوعہ پر موجود ہی نہیں تھے تو ان کے خلاف دی جانے والی سزاؤں کا قانونی جواز کیا ہے؟
اپنے سوشل میڈیا پیغام میں الطاف حسین نے لکھا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں نے لاہور، سرگودھا اور فیصل آباد میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمات کی سماعت کے دوران متعدد رہنماؤں اور کارکنان کو 10،10 سال قید اور جائیداد ضبطی کی سزائیں سنائیں لیکن شاہ محمود قریشی، ان کے صاحبزادے زین قریشی اور کئی دیگر رہنماؤں کو اس بنیاد پر بری کر دیا گیا کہ وہ واقعات کے وقت جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عدم موجودگی کی بنیاد پر کچھ رہنما بری ہوسکتے ہیں تو عمران خان کو سزا دینے کی قانونی منطق کیا ہے؟
9، مئی کوعمران خان کی جائے وقوعہ پر عدم موجودگی کے باوجود انہیں سزا کیوں دی گئی ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان صاحب کو9،مئی 2023ء کے واقعات کا ذمہ دار قراردیا گیا کہ وہ جی ایچ کیو،کورکمانڈرہاؤس لاہور پر حملے اوردیگر فوجی تنصیبات پر حملوں کے ذمہ…
— Altaf Hussain (@AltafHussain_90) August 18, 2025
قانونی ماہرین اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے وکلا نے اس نکتے کو نظرانداز کیا، جس سے عمران خان کو ریلیف مل سکتا تھا۔ دوسری جانب عوام میں بھی یہ بحث جاری ہے کہ آیا یہ فیصلے یکساں انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہیں یا نہیں۔
مئی 2025ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی مختصر جنگ کے دوران بھی ایسے ہی سوالات کھڑے ہوئے جب حکومت اور میڈیا نے صرف پاکستان کی کامیابیوں کو نمایاں کیا، لیکن بھارت کے حملوں کے نقصانات پر بات نہ کی۔ ماہرین کے مطابق یہی طرزِ عمل سیاسی اور عدالتی معاملات میں بھی دکھائی دیتا ہے، جہاں بعض حقائق پسِ پردہ رکھے جاتے ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنان اور تجزیہ کار یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ اگر سپر طاقتیں جمہوریت اور انسانی حقوق کی علمبردار ہیں تو وہ پاکستان میں بار بار ہونے والی غیر جمہوری مداخلتوں پر خاموش کیوں رہتی ہیں؟ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ 1947ء سے 1958ء کے دوران 11 برسوں میں 7 وزرائے اعظم کو ہٹایا گیا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جس طرح امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ میں شہری آزادیوں کے تحفظ کے سخت قوانین موجود ہیں، پاکستان میں بھی وہی اصول لاگو ہونے چاہئیں تاکہ کسی شہری کو بغیر وارنٹ کے گرفتار نہ کیا جا سکے اور نہ ہی بنیادی حقوق سلب کیے جائیں۔
سوال یہ ہے کہ جب پاکستانی عوام اپنے لیے انہی قوانین کا مطالبہ کرتے ہیں تو مغربی طاقتیں اس مطالبے کی حمایت کرنے کے بجائے آمریت کی پشت پناہی کیوں کرتی ہیں؟
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








