اسلام آباد: اپوزیشن کے شور شرابے اور احتجاج کے باوجود سینیٹ نے منگل کے روز انسدادِ دہشت گردی (ترمیمی) بل 2025 کثرتِ رائے سے منظور کرلیا، اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے پیش کی جانے والی ترامیم کو مسترد کردیا گیا۔
وزیرِ مملکت برائے داخلہ و انسدادِ منشیات طلال چوہدری نے یہ بل ایوان میں پیش کیا جس کا مقصد انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 میں مزید ترامیم کرنا تھا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اس بل میں ترامیم کی کوشش کی تاہم ایوان نے ان تجاویز کو مسترد کردیا۔
بل کی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ موجودہ سیکورٹی حالات میں ایک جامع اور مضبوط قانونی فریم ورک کی ضرورت ہے تاکہ دہشت گردی کو مؤثر انداز میں روکا جاسکے۔
اس ترمیم کے تحت حکومت، فوج اور سول آرمڈ فورسز کو ایسے افراد کی گرفتاری اور حراست کا اختیار مل جائے گا جو قومی سلامتی کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں۔
مزید یہ کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں (جے آئی ٹی) کے قیام کی تجویز دی گئی ہے تاکہ قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلی جنس ادارے مل کر جامع تحقیقات کرسکیں اور قابلِ عمل معلومات اکٹھی کی جاسکیں۔
وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ملک اس وقت دہشت گردی کے سنگین خطرات سے دوچار ہے اور یہ ترمیم آئینِ پاکستان 1973 کی روح کے عین مطابق ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بل میں تین سال کی سن سیٹ کلاز بھی شامل کی گئی ہے اور اس کے تحت گرفتار شخص کو 24 گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازمی ہوگا۔
پاکستان تحریک انصاف کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ان کی جماعت بھی دہشت گردی کے خلاف ہے لیکن بل کی بعض شقیں آئین اور قانون سے متصادم ہیں، اس لیے اسے کمیٹی کے سپرد کیا جانا چاہیے۔
مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے زور دیا کہ دہشت گردوں سے کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے دہشت گردی کے باعث تقریباً ایک لاکھ جانوں کی قربانیاں دی ہیں، اب ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ دہشت گردوں کے سامنے جھکیں یا ان کے خلاف سخت قوانین بنائیں۔
انہوں نے اس موقع پر سیاسی رہنماؤں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ سیاسی انتقام کے لیے قانون کا استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر نور الحق قادری اور جے یو آئی (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے تجویز دی کہ بل کو اسلامی نظریاتی کونسل اور متعلقہ کمیٹی میں بھیجا جائے تاکہ مزید تفصیلی جائزہ لیا جاسکے۔
اجلاس کے دوران ایوانِ بالا نے دو مزید بلز بھی منظور کیے جن میں پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی بل 2025 اور پیٹرولیم ترمیمی بل 2025 شامل ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








