راجستھان کے شہر جے پور میں منعقد ہونے والے مس یونیورس انڈیا 2025 کے مقابلے میں منیکا وشوکرما نے تاج اپنے نام کیا۔ یہ 22 سالہ حسینہ اب تھائی لینڈ میں ہونے والے 74ویں مس یونیورس عالمی مقابلے کی تیاری کر رہی ہیں۔ منیکا کی یہ کامیابی ان کی محنت، لگن اور خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
منیکا کا تعلق راجستھان کے گنگا نگر سے ہے لیکن وہ گزشتہ چند سالوں سے دہلی میں مقیم ہیں جہاں وہ اپنے ماڈلنگ کیریئر کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ دہلی یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس اور اکنامکس کی فائنل ایئر کی طالبہ ہونے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی تعلیم اور مقابلہ حسن کی تیاریوں کو متوازن رکھا۔ گزشتہ سال انہوں نے مس یونیورس راجستھان کا خطاب جیت کر قومی سطح پر قدم رکھا تھا۔

منیکا کی کہانی اس لیے منفرد ہے کیونکہ انہوں نے اپنے گھر سے 408 کلومیٹر دور رہ کر اس مقابلے کی تیاری کی۔ انہوں نے کیٹ واک، فٹنس، فیشن سینس اور مواصلاتی صلاحیتوں پر سخت محنت کی جس نے انہیں دیگر مقابلوں سے ممتاز کیا۔ ان کی سادہ مگر پرکشش شخصیت اور پراعتماد مسکراہٹ نے نہ صرف ججز بلکہ سوشل میڈیا پر موجود مداحوں کے دل بھی جیت لیے۔

منیکا صرف ایک ماڈل ہی نہیں بلکہ ایک تربیت یافتہ کلاسیکل ڈانسر اور فنکارہ بھی ہیں۔ ان کے فن کو للت کلا اکیڈمی اور جے جے اسکول آف آرٹس جیسے معروف اداروں نے سراہا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے وزارت خارجہ کے زیر اہتمام بین الاقوامی اقدام BIMSTEC Sewocon میں ہندوستان کی نمائندگی کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

مقابلے کی فتح کے بعد منیکا نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی جدوجہد نہیں بلکہ تیاری کا ایک خوبصورت سفر تھا۔ میں نے اپنے شہر گنگا نگر سے دہلی تک کا سفر کیا اور اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے خود پر بھروسہ رکھا۔

انہوں نے اپنے اساتذہ، سرپرستوں اور مداحوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں اس مقام تک پہنچایا۔ ان کا کہنا تھاکہ خوبصورتی کا مقابلہ صرف ظاہری حسن نہیں بلکہ کردار، ہمت اور اعتماد کی دنیا ہے جو ایک شخص کو مکمل بناتی ہے۔ یہ ایک سال کا تاج نہیں، بلکہ زندگی بھر کا سفر ہے۔

منیکا اب عالمی اسٹیج پر ہندوستان کی نمائندگی کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کی نظریں مس یونیورس 2025 کے عالمی تاج پر ہیں، اور ان کا جذبہ اور محنت انہیں اس خواب کے قریب لے جا رہی ہے۔ منیکا وشوکرما کی یہ کہانی ہر اس شخص کے لیے ایک تحریک ہے جو بڑے خواب دیکھتا ہے اور انہیں پورا کرنے کے لیے محنت کرنے کو تیار ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








