اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) راولپنڈی نے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی اسکینڈل بی فور یو کیس کے متاثرین کو معاوضہ فراہم کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
اس سلسلے میں نیب ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی، جس میں 17 ہزار 500 متاثرہ افراد کو چیک تقسیم کیے گئے۔ تقریب میں چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد، سینئر حکام اور متاثرہ شہری بڑی تعداد میں موجود تھے۔
بی فور یو اسکینڈل ایک پونزی اسکیم تھی جس کے تحت عوام سے ماہانہ سات فیصد منافع دینے کے جھوٹے وعدے پر اربوں روپے اکٹھے کیے گئے۔
نیب نے تحقیقات کے دوران مرکزی ملزمان کے 56 بینک اکاؤنٹس، جائیدادوں اور دیگر اثاثوں کو منجمد کیا۔
قانونی کارروائی کے بعد اب تک سات ارب تیس کروڑ روپے برآمد کیے جا چکے ہیں جن میں سے پہلے مرحلے میں تین ارب ستر کروڑ روپے کی تقسیم کی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پہلے مرحلے میں دس ہزار متاثرین کو ان کا پورا معاوضہ ادا کر دیا گیا ہے جبکہ سات ہزار پانچ سو متاثرین کو ان کے واجبات کا 40 فیصد دیا گیا ہے۔ بقیہ 60 فیصد رقم آئندہ چھ ماہ میں نیلام شدہ جائیدادوں سے حاصل شدہ رقوم کے بعد فراہم کی جائے گی۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ عوامی اعتماد کی بحالی اور شفاف انصاف فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ مرحلوں میں متاثرین کو براہِ راست ان کے بینک اکاؤنٹس میں ادائیگی کی جائے گی تاکہ شہریوں کو نیب دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔
نیب کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ ادارہ بڑے عوامی مقدمات کو ترجیح دے رہا ہے اور لوٹی گئی رقوم واپس دلانے کے لیے بھرپور تحقیقات اور قانونی کارروائی جاری رکھے گا۔
حال ہی میں جاری کردہ اپنی ششماہی کارکردگی رپورٹ میں بھی نیب نے ریکارڈ ریکوریز ظاہر کی ہیں۔ اپریل سے جون کے دوران اکیلے 456 ارب 30 کروڑ روپے جبکہ سال کے پہلے چھ ماہ میں مجموعی طور پر 547 ارب 31 کروڑ روپے برآمد کیے گئے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








