سابق کپتان راشد لطیف کا کہنا ہے کہ بابر اعظم اور محمد رضوان کو ٹیم کی اندرونی سیاسی معاملات کی وجہ سے باہر کیا گیا ہے اور اس سیاست نے دونوں کھلاڑیوں کے ذہنی دباؤ میں اضافہ کیا جو کہ ان کی کارکردگی پر اثر انداز ہوا۔
سابق کپتان راشد لطیف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگرچہ دونوں کھلاڑیوں کی کارکردگی میں کچھ کمی آئی ہے لیکن انہیں ایشیا کپ سے باہر کرنے کی وجہ محض کرکٹ نہیں بلکہ پی سی بی کے اندر جاری سیاسی کھینچا تانی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیم اس وقت ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں آٹھویں نمبر پر ہے اور ایسی صورتحال میں بابر اور رضوان جیسے اہم کھلاڑیوں کو نظر انداز کرنا حیران کن ہے کیونکہ ٹیم کے پاس ان کی جگہ کوئی غیر معمولی کھلاڑی موجود نہیں ہے۔
انہوں نے بابر اعظم کے اسٹرائیک ریٹ پر تنقید کو بھی ناانصافی قرار دیا اور کہا کہ کرکٹ میں صرف اسٹرائیک ریٹ ہی سب کچھ نہیں ہوتا بلکہ کھیل کی سمجھ اور حکمت عملی زیادہ اہم ہے۔ راشد لطیف نے بابر کی ورلڈ کپ 2024 کے لیے دوبارہ کپتانی قبول کرنے کو ان کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا جس سے ان کی بیٹنگ متاثر ہوئی۔
راشد لطیف نے امید ظاہر کی کہ اگر بابر کو سیاسی دباؤ سے آزاد ماحول ملے تو وہ دوبارہ اپنی پرانی فارم حاصل کر سکتے ہیں اور عالمی سطح کے بہترین بیٹرز میں شامل ہو سکتے ہیں۔
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی کرکٹ میں یہ تاثر پھیل رہا ہے کہ قومی ٹیم کی مینجمنٹ پر ایک مخصوص فرنچائز کا اثر ہے جس سے وابستہ موجودہ کوچ بھی 2023 سے منسلک ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








