وفاقی حکومت نے صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر ملک میں گیارہواں نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) تشکیل دے دیا ہے جو نئے ریونیو شیئرنگ ایوارڈ کو حتمی شکل دے گا۔
یہ کمیشن آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت قائم کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی جولائی 2020 میں تشکیل دیے گئے دسویں این ایف سی کو تحلیل کر دیا گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ کمیشن کے چیئرمین ہوں گے جبکہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے وزرائے خزانہ اراکین کے طور پر شامل کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ صوبوں سے نامزد کیے گئے ماہرین میں پنجاب سے ناصر محمود کھوسہ، سندھ سے اسد سعید، خیبر پختونخوا سے مشرف رسول سائیں اور بلوچستان سے فرمان اللہ شامل ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق گیارہویں این ایف سی کے ضوابط کار میں اہم معاملات شامل ہیں جن میں وفاق اور صوبوں کے درمیان ٹیکسوں کی خالص آمدنی کی تقسیم، صوبوں کو وفاق کی جانب سے گرانٹس کی فراہمی، وفاق اور صوبوں کے قرض لینے کے اختیارات، ایسے اخراجات کی شراکت جو صوبوں کے دائرہ کار میں آنے والے معاملات پر وفاق نے کیے ہوں یا مستقبل میں کرنے ہوں، بین الصوبائی امور پر ہونے والے مالی اخراجات کی تقسیم، قومی منصوبوں پر ہونے والے اخراجات میں وفاق اور صوبوں کی شراکت داری، اور وہ تمام مالیاتی معاملات شامل ہیں جو صدرِ مملکت کمیشن کو بھیجیں گے۔
کمیشن کو قواعدِ کار 1973 کے تحت وزارتِ خزانہ سیکریٹریٹ معاونت فراہم کرے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گیارہویں این ایف سی کا قیام وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم میں اہم پیش رفت ثابت ہوگا جبکہ صوبوں کی جانب سے طویل عرصے سے وسائل میں اضافے اور مالی خودمختاری کے مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








