موٹر سائیکل سوار خاتون پر تشدد کے واقعے میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے حوالے سے ڈپٹی اٹارنی جنرل سلمان علی قریشی کا موقف سامنے آ گیا ہے جس میں انہوں نے واقعے سے مکمل لاتعلقی ظاہر کی ہے اور واضح کیا ہے کہ اگر ان کے اہلِ خانہ اس واقعے میں ملوث ہیں تو وہ اس عمل سے خود کو الگ کرتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سلمان علی قریشی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کو معاملے کی غلط رپورٹ دی گئی ہے اور اگر انہیں محض سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم کی بنیاد پر عہدے سے ہٹایا گیا تو وہ عوام کا سامنا نہیں کر سکیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پر وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے غیر جانب دارانہ تحقیقات کی اپیل کرتے ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ وزیراعظم نے ان کی برطرفی کی سفارش صدر مملکت کو ارسال کر دی ہے لیکن انہیں تاحال کسی قسم کا سرکاری نوٹس موصول نہیں ہوا اور وہ بدستور ڈپٹی اٹارنی جنرل کے منصب پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
واقعے کا پس منظر
یاد رہے کہ 17 اگست کو ملتان میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا جہاں ایک خاتون میمونہ اپنی بیٹی کو موٹر سائیکل پر لے جا رہی تھیں کہ ان کی موٹر سائیکل کی ٹکر ایک گاڑی سے ہو گئی جس کے بعد مبینہ طور پر زاہدہ نامی خاتون ان کے بیٹے اور بہن نے میمونہ ان کی بیٹی اور داماد کو سڑک پر ہی تشدد کا نشانہ بنایا۔
میاں سلمان قریشی کا بیٹا گاڑی میں جا رہا تھا کے ساتھ سے اک لڑکی سکوٹی پے جا رہی تھی اس کے بیٹے نے جان بوجھ کر ٹکر ما ری لڑکی نیچے گر گئی لڑکی نے ا ٹھ کر گاڑی میں پتھر مار دیا
اتنی دیر میں لڑکے کی والدہ اپنے ملازمین کے ساتھ آ گی اور لڑکی کو مارنا شروع کر دیا pic.twitter.com/4jNbGE640D— صحرانورد (@Aadiiroy2) August 17, 2025
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شدید عوامی ردعمل سامنے آیا جس پر وزیر اعظم شہباز شریف نے فوری نوٹس لیتے ہوئے صدر پاکستان کو ڈپٹی اٹارنی جنرل سلمان علی قریشی کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش بھیجی تھی۔
سلمان قریشی کے اس تازہ بیان کے بعد یہ معاملہ مزید حساس رخ اختیار کر گیا ہے اور اب نگاہیں سرکاری تحقیقات اور قانونی پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








