معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر اور ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس میں پولیس نے تحقیقات مکمل کر کے چالان ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں جمع کروا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کیس کا باقاعدہ ٹرائل گرمیوں کی عدالتی تعطیلات کے اختتام کے بعد شروع کیا جائے گا۔ استغاثہ کی جانب سے چالان میں کل 31 گواہوں کو شامل کیا گیا ہے جن میں ثناء یوسف کے اہلِ خانہ، ڈاکٹروں، پولیس افسران اور دیگر اہم شخصیات کے بیانات شامل ہیں۔
پراسیکیوشن ٹیم نے اس مقدمے کے چالان کو حتمی شکل دینے سے قبل ایک ماہ سے زائد وقت تک اس کا تفصیلی جائزہ لیا۔ پولیس کی رپورٹ میں عمر حیات کو ثناء یوسف کا قاتل نامزد کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ 17 سالہ معروف ٹک ٹاکر ثناء یوسف کو چند ماہ قبل اسلام آباد میں ان کے گھر میں گھس کر قتل کر دیا گیا تھا۔ قتل کا الزام 22 سالہ ٹک ٹاکر عمر حیات پر عائد کیا گیا جسے واقعے کے چند روز بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔
عمر حیات نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کیا تھا جس کے بعد یہ افسوسناک واقعہ قومی اور بین الاقوامی میڈیا کی سرخیوں میں آ گیا تھا۔
عدالتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ٹرائل کے دوران گواہوں کے بیانات اور فرانزک شواہد کیس کی سمت طے کریں گے جبکہ سوشل میڈیا پر اس کیس کو انصاف کی ایک مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








