نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کی ملک میں پہلی ڈیجیٹل اقتصادی مردم شماری کی کامیاب تکمیل پرسراہا ہے۔
انہوں نے اس بات پرزوردیا کہ قابلِ اعتماد ڈیٹا کی دستیابی ایک گیم چینجر ثابت ہوگی۔ یہ مردم شماری، جوکہ ساتویں آبادی اور ہاؤسنگ مردم شماری میں شامل کی گئی تھی، پاکستان کے اقتصادی ڈیٹا اورمستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ یہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک انقلابی لمحہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی بی ایس نے تقریباً 70 لاکھ کاروباری اداروں کی ڈیجیٹل دستاویزی اور جیوٹیگنگ کرکے جنوبی ایشیا میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی ڈیجیٹلائزیشن کی کوشش مکمل کی ہے۔
اس مردم شماری سے پاکستان کی معیشت کے ڈھانچے کے بارے میں بے مثال معلومات حاصل ہوئی ہیں، جس میں کُل 71 لاکھ سے زیادہ کاروباری ادارے شامل ہیں۔
اہم نتائج یہ ظاہرکرتے ہیں کہ سروسزسیکٹرکا کردار سب سے زیادہ نمایاں ہے، جہاں سب سے زیادہ ادارے اورافرادی قوت کا سب سے بڑا حصہ موجود ہے۔ اعداد وشمار یہ بھی ظاہرکرتے ہیں کہ پنجاب میں کاروباری اداروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، جبکہ سندھ اوراسلام آباد میں سروسزسیکٹرخاص طور پر مضبوط ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ڈیجیٹل طریقہ کار پرانے طریقوں سے ہٹ کرایک بڑی پیش رفت ہے، جوشفاف اورقابلِ بھروسہ ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔ ہراہم کاروباری یونٹ کوجیوٹیگ کیا گیا اور اس کی سرگرمی، ملکیت، افرادی قوت کی تعداد، اور دیگر معلومات کے بارے میں جامع ڈیٹا جمع کیا گیا۔
میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ اس قابلِ اعتماد ڈیٹا کی دستیابی سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور پالیسی سازوں کوشواہد کی بنیاد پرفیصلے کرنے میں مدد ملے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اب ہم شہری منصوبہ بندی کوبہتربنا سکتے ہیں، اپنی ترقی کی پیشرفت پرنظررکھ سکتے ہیں اور مقامی وغیرملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک زیادہ پرکشش ماحول بنا سکتے ہیں۔
میاں زاہد حسین نے اپنے بیان کا اختتام کرتے ہوئے اس مردم شماری کی اہمیت کو دہرایا، جو پاکستان کے لیے ایک زیادہ خوشحال اور ڈیٹا پرمبنی مستقبل کی ٹھوس بنیاد رکھے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








