اور پھر دریائے راوی بھی چھلک پڑا؛ سکھوں کا مقدس مقام کرتار پور زیر آب آگیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

بدھ کے روز راوی دریا کے حفاظتی بند کے ٹوٹنے کے بعد کرتارپور گردوارہ دربار صاحب میں سیلابی پانی داخل ہو گیا۔ یہ واقعہ شیخوپورہ کے قریب پیش آیا جب بھارت سے آنے والے شدید پانی کے بہاؤ نے پنجاب کے دریاؤں کو ہائی فلڈ کی حالت میں لا کھڑا کیا۔

حکام کے مطابق گردوارہ کے احاطے میں کئی فٹ پانی جمع ہو چکا ہے جس کی وجہ سے سکھ یاتریوں کیلئے مذہبی رسومات ادا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق علاقے میں تقریباً 200 سے 300 افراد پھنس گئے ہیں اور پاکستان آرمی کے ساتھ ساتھ ریسکیو ٹیمیں امدادی اور انخلاء کے کاموں میں مصروف ہیں۔

حکام نے بتایا کہ پنجاب کے بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح انتہائی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ ہیڈ مرالہ پر دریائے چناب میں 950,000 کیوسک سے زائد کا غیر معمولی بہاؤ ریکارڈ کیا گیا جبکہ گنڈا سنگھ والا پر دریائے ستلج میں 245,000 کیوسک سے زیادہ پانی دیکھا گیا۔ اسی طرح جسر پر دریائے راوی کا بہاؤ بھی 200,000 کیوسک سے تجاوز کر گیا۔

سیلابی پانی نے کئی حفاظتی بندوں کو توڑ دیا۔ گجرات میں دریائے چناب نے کری شریف کے قریب بند توڑ کر قریبی سڑکوں اور دیہاتوں کو ڈبو دیا جبکہ شیخوپورہ میں راوی نے بھیکو چک ڈائک کو توڑ کر درجنوں بستیوں کو زیر آب کر دیا۔

متاثرہ علاقوں جیسے سرخپور، خلیلپور اور گوجر کوٹلہ کے رہائشیوں نے ریسکیو آپریشنز میں تاخیر کی شکایات کیں۔ گجرات شہر میں شدید بارشوں نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا کیونکہ ناقص نکاسی آب کے نظام کی وجہ سے شہر کے بڑے حصے پانی میں ڈوب گئے۔

اب تک ریسکیو ٹیموں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے تقریباً 300 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔ تاہم، حکام نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل بارشیں اور دریاؤں میں پانی کا زیادہ بہاؤ صورتحال کو مزید سنگین کر سکتا ہے۔

Related Posts