کراچی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے خلاف 2024 کے ایک مقدمے میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
اس مقدمے کا تعلق ان الزامات سے ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ نے سیکورٹی اداروں پر سنگین الزامات عائد کر کے عوام کو مشتعل کرنے کی کوشش کی تھی۔
ذرائع کے مطابق یہ مقدمہ اکتوبر 2024 میں قائدآباد پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا جس میں ڈاکٹر ماہ رنگ پر علاقے میں پرتشدد صورتحال پیدا کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔
عدالت نے قائد پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر محمد یعقوب کو ہدایت دی ہے کہ وہ ڈاکٹر ماہ رنگ کو گرفتار کر کے 5 ستمبر 2025 کو صبح 8 بج کر 30 منٹ پر جوڈیشل کمپلیکس، سینٹرل جیل کراچی میں عدالت کے روبرو پیش کریں۔
عدالت کے جاری کردہ وارنٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر وارنٹ پر عملدرآمد نہ ہو سکے تو مکمل تفصیلات کے ساتھ اسے عدالت میں واپس جمع کروایا جائے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اس وقت کوئٹہ پولیس کی حراست میں ہیں، جہاں گزشتہ ہفتے اے ٹی سی کوئٹہ نے ان سمیت چار دیگر افراد کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 15 دن کی توسیع کی تھی۔ گرفتار رہنماؤں میں بیبو بلوچ، اور بیبرگ بلوچ شامل ہیں جنہیں سخت سیکورٹی حصار میں عدالت میں پیش کیا گیا۔
دوسری جانب پولیس نے گرفتار پانچویں شخص، نیشنل پارٹی کے رہنما ماما عبدالغفور کو تحقیقات میں مزید ضرورت نہ ہونے پر رہا کر دیا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں ہونے والے قلات آپریشن کے دوران مارے جانے والے دہشت گرد صہیب لانگو کو بی وائی سی نے اپنی فہرست میں لاپتہ افراد میں شامل کیا تھاجس پر سیکیورٹی اداروں اور بلوچ رہنماؤں کے درمیان بیانیہ مزید متنازع ہو گیا ہے۔
یہ مقدمہ اور اس پر عدالتی کارروائی نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک میں سیاسی و سماجی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








