ترکیہ نے اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات مکمل طور پر معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تجارتی جہازوں کو اسرائیل بندرگاہوں میں جانے پر پابندی عائد کردی اور اسرائیلی طیاروں کے لیے فضائی حدود بھی بند رہے گی۔
ترک میڈیا کے مطابق وزیرخارجہ ہاکان فیدان نے پارلیمنٹ کے غیرمعمولی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات ختم کر دیے گئے اور ترک بحری جہازوں کو اسرائیلی بندرگاہوں پر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی طیاروں کو ترک فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیرخارجہ نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں جنگی جرائم کا مرتکب ہوا ہے اور یہ انسانی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ میں گزشتہ دو برسوں سے دنیا کی نظروں کے سامنے بنیاسی انسانی اقدار کو پش پشت ڈالتے ہوئے نسل کشی کا جرم کر رہا ہے۔
ہاکان فیدان نے کہا کہ فلسطینیوں کی اسرائیل کے خلاف مزاحمت تاریخ کا دھارا بدل دے گی اور یہ مزاحمت مظلوموں کے لیے مثال بن گئی ہے اور زوال پذیر نظام کی بنیادوں کو ہلا دیا ہے۔
ترک وزیرخارجہ نے فلسطینیوں کی غزہ سے بے دخلی کی تجویز یکسر مسترد کردی اور زور دیا کہ یہ منصوبہ جس نے بھی پیش کیا ہو ہمیں یہ منصوبہ منظور نہیں ہے۔
کیا غزہ قتل عام کے باوجود ترکیہ اب تک اسرائیل کا شراکت دار تھا؟
مئی 2024 میں ترکی نے “غزہ میں انسانی المیے” کے پیش نظر تمام تجارتی روابط اسرائیل کے ساتھ معطل کرنے کا اعلان کیا۔تاہم عالمی اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2024 میں ترکی اسرائیل کی پانچویں بڑی برآمد کنندہ رہا، جس کی مالیت $2.86 بلین تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری تا مئی 2025 کے دوران ترکی کی اسرائیل کو برآمدات تقریباً $393.7 ملین رہیں، جو پابندی کے باوجود برقرار تھیں، جس سے پتا چلتا ہے کہ بدقسمتی سے غزہ میں قتل عام کے ہنگام بھی ترکیہ کی اسرائیل کے ساتھ تجارت جاری تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








