فونز اور انٹر نیٹ بند، ریلوے سروسز معطل؛ بلوچستان میں کیا ہونے والا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Section 144 enforced in Balochistan amid security concerns
(فوٹو؛ فائل)

بلوچستان میں لاپتا افراد کے عالمی دن کے موقع پر ممکنہ احتجاج کے پیش نظر صوبے بھر میں ایک بار پھر موبائل انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی ہیں جبکہ کوئٹہ سے اندرون ملک جانے والی ٹرین سروسز بھی بند ہیں جس سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ممکنہ مظاہروں کے دوران امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنا ہے۔ یاد رہے کہ صوبے کے 36 اضلاع میں پہلے ہی 6 اگست سے تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ سروسز سیکیورٹی خدشات کے باعث بند ہیں جن کی بحالی اب تک ممکن نہیں ہو سکی۔

صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ یہ بندش 31 اگست تک برقرار رہ سکتی ہے حالانکہ بلوچستان ہائی کورٹ کی جانب سے پہلے یہ حکم دیا گیا تھا کہ جہاں سیکیورٹی صورتحال بہتر ہو وہاں انٹرنیٹ فوری بحال کیا جائے۔ اس کے باوجود ہفتہ کی صبح سے ایک بار پھر پورے صوبے میں انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر معطل کر دی گئیں۔

انٹرنیٹ کی بندش کے باعث طلبہ، کاروباری افراد، فری لانسرز اور دیگر شہری سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔ طالبعلموں کا کہنا ہے کہ سست انٹرنیٹ پہلے ہی تعلیم میں رکاوٹ تھا اب مکمل بندش نے آن لائن کلاسز اور ریسرچ ناممکن بنا دی ہے۔

ادھر کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے سابق صدر آغا گل خلجی نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش نے بین الاقوامی اور بین الصوبائی تجارت کو بری طرح متاثر کیا ہے جس سے تاجروں کو لاکھوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔

ادھر ٹرین سروس بھی معطل ہے۔ ریلوے حکام نے بتایا کہ سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد ہی ٹرینیں بحال کی جائیں گی۔ یہ بندش بھی ممکنہ مظاہروں کے پیش نظر کی گئی ہے تاکہ ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں نے ان اقدامات کو شہری آزادیوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان اس وقت مواصلاتی اور سفری پابندیوں کے باعث ایک کھلی جیل بن چکا ہے۔

Related Posts