تاریخی میلہ اور منفرد کہانی؛ پاکستانی فلم دی کرفیو کل وینس میلے میں پیش کی جائے گی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ ڈان نیوز)

پاکستانی فلم ساز شہریزاد مہر کی لکھی اور ہدایت کردہ شارٹ فلم دی کرفیو کل (4 ستمبر) کو دنیا کے معتبر ترین ثقافتی میلے وینس بینالے میں اپنا عالمی پریمیئر کرے گی۔

19 منٹ دورانیے کی فلم اس سال وینس بینالے میں شامل ہونے والی واحد پاکستانی فلم ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کا ایک اہم موقع سمجھا جا رہا ہے۔

فلم کی کہانی ایان نامی نوجوان کے گرد گھومتی ہے جو وقتی طور پر اپنی دادی کی دیکھ بھال کے لیے مقرر ہوتا ہے۔ دونوں کے درمیان زبان کی رکاوٹ ایک خاموش کشمکش کو جنم دیتی ہے جو نہ صرف ان کے رشتے کی نوعیت کو پرکھتی ہے بلکہ ماضی کی گونج اور شناخت کی تہوں کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Fae Pictures (@faepictures)

فلم میں نوآبادیاتی دور کی یادیں اس انداز میں شامل ہیں کہ ایان کا اپنے اردگرد کے لوگوں اور خود پر نظر کا زاویہ بدلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

دی کوفیو میں اداکاری کے جوہر دکھانے والوں میں ساتھیا سری دھرن، بلندر جوہل، سارہ حیدر، راجیش بوس، کرس تھورن اور سلوٰی خان شامل ہیں۔

یہ فلم تہذیبی ورثے، ثقافتی اجنبیت اور ذاتی پہچان جیسے گہرے موضوعات کو انتہائی خاموش مگر موثر انداز میں بیان کرتی ہے جس نے اسے عالمی سطح کے اس بڑے فلمی پلیٹ فارم تک پہنچایا ہے۔

یاد رہے کہ وینس بینالے کا آغاز 1895 میں ہوا تھا اور یہ دنیا کے قدیم ترین اور باوقار ترین ثقافتی میلوں میں شمار ہوتا ہے جہاں ہر سال دنیا بھر سے آرٹ، فنِ تعمیر، رقص، فلم، موسیقی اور تھیٹر کے نمائندہ کام پیش کیے جاتے ہیں۔

Related Posts