یروشلم میں اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کی پالیسیوں کے خلاف پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ غزہ میں قید یرغمالیوں کی فوری رہائی کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ احتجاج میں شدت اس وقت آئی جب مظاہرین نے نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے قریب ایک ٹینک کو آگ لگا دی جس سے ساتھ کھڑی فوجی گاڑی بھی جل گئی۔
یہ مظاہرے یومِ خلل کے طور پر منائے جا رہے ہیں اور ان میں حکومت پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ دانستہ طور پر قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کے معاہدے سے گریز کر رہی ہے۔ احتجاج کے دوران کئی مقامات پر آگ زنی اور سڑکوں کی بندش کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں جس سے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔

اسرائیلی حکومت نے مظاہرین کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر دہشت گردی کا الزام لگایا جبکہ حزبِ اختلاف نے حکومت کی پالیسیوں کو بحران کی اصل وجہ قرار دیا ہے۔
عالمی امور ماہرین کے مطابق اسرائیل داخلی طور پر شدید سیاسی و سماجی دباؤ میں ہے اور نیتن یاہو کی جارحانہ حکمت عملیوں نے خود اسرائیلی معاشرے میں بھی بےچینی پیدا کر دی ہے جبکہ عالمی سطح پر بھی اسرائیل کو تنقید کا سامنا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








