نیتن یاہو کی رہائش گاہ میدانِ جنگ میں تبدیل؛ مظاہرین نے گاڑیاں اور ٹینک کو آگ لگا دی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ ٹائمز آف اسرائیل)

یروشلم میں اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کی پالیسیوں کے خلاف پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ غزہ میں قید یرغمالیوں کی فوری رہائی کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ احتجاج میں شدت اس وقت آئی جب مظاہرین نے نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے قریب ایک ٹینک کو آگ لگا دی جس سے ساتھ کھڑی فوجی گاڑی بھی جل گئی۔

یہ مظاہرے یومِ خلل کے طور پر منائے جا رہے ہیں اور ان میں حکومت پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ دانستہ طور پر قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کے معاہدے سے گریز کر رہی ہے۔ احتجاج کے دوران کئی مقامات پر آگ زنی اور سڑکوں کی بندش کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں جس سے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔

Tires set on fire near the Prime Minister’s Office in Jerusalem as part of a demonstration for a hostage-ceasefire deal on September 3, 2025. (Israel Police)

اسرائیلی حکومت نے مظاہرین کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر دہشت گردی کا الزام لگایا جبکہ حزبِ اختلاف نے حکومت کی پالیسیوں کو بحران کی اصل وجہ قرار دیا ہے۔

عالمی امور ماہرین کے مطابق اسرائیل داخلی طور پر شدید سیاسی و سماجی دباؤ میں ہے اور نیتن یاہو کی جارحانہ حکمت عملیوں نے خود اسرائیلی معاشرے میں بھی بےچینی پیدا کر دی ہے جبکہ عالمی سطح پر بھی اسرائیل کو تنقید کا سامنا ہے۔

Related Posts