عالمی شہرت یافتہ اطالوی فیشن ڈیزائنر جارجیو آرمانی 91 برس کی عمر میں اپنے گھر پر انتقال کرگئے جوکہ نہ صرف فیشن کی دنیا بلکہ جدید ثقافت میں بھی ایک عظیم دور کے خاتمے کی علامت ہے۔ انہوں نے اپنے پیچھے ایک ایسی میراث چھوڑی جو خوبصورتی، نظم و ضبط، جدت اور اثر و رسوخ کا بہترین امتزاج ہے۔
کنگ جارجیو کے نام سے مشہور آرمانی نے نہ صرف لوگوں کے لباس کے انداز کو بدلا بلکہ انہوں نے طاقت، نفاست اور صنفی اظہار کو لباس کے ذریعے نئے معانی دیے۔ ان کے غیر رسمی جیکٹس سادہ لیکن دلکش ڈیزائن اور غیر جانبدار رنگوں کا انتخاب ایک ایسی نسل کی شناخت بن گیا جو سادگی میں اعتماد کی عکاسی کرتا تھا۔

انہوں نے ریڈ کارپٹ سے لے کر کارپوریٹ دفتروں اور روزمرہ کے لباس تک ایک ایسی خوبصورت زبان متعارف کروائی جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

ان کی آخری رسومات نجی ہوں گی لیکن میلان کے تھیٹرو آرمانی میں اس ہفتے کے آخر میں عوام کے لیے تعزیتی تقریب کا انعقاد ان کے اٹلی کے عوام اور عالمی فیشن برادری سے گہرے تعلق کی عکاسی کرتا ہے۔

جیورجیو آرمانی صرف ایک ڈیزائنر نہیں بلکہ خود فیشن کے مکتبہ فکر تھے۔ ان کی نیازمند سادگی، ڈسپلن اور بصیرت آج بھی فیشن کی دنیا میں ایک منزل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اب اس آہستہ لیکن مستحکم قدم نے فیشن کی تاریخ میں ایک باب بند کر دیا ہے

ارمانی گروپ کے صدرِ نے کہا کہ ان کے ساتھ کام کرنا خاندان بنانے جیسا تھا۔ آج ان کے جانے کا خلا محسوس ہو رہا ہے لیکن ان کی روح میں ہم اپنی پہچان کو آگے بڑھاتے رہیں گے۔

اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے آرمانی کی خوبصورتی، سادگی اور تخلیقی صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ انہوں نے اطالوی فیشن کو عالمی سطح پر روشناس کرایا اور پوری دنیا کو متاثر کیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








