شہریوں کو بلا سود گاڑیاں ملیں گی اور! پنجاب حکومت کی الیکٹرک ٹیکسی ااسکیم کب سے شروع؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Punjab Government to launch electric taxi scheme within 15 Days
ARY NEWS

لاہور: پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ بلال یاسین نے اعلان کیا ہے کہ صوبے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور پائیدار سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے 15 دن کے اندر نئی الیکٹرک ٹیکسی اسکیم کا آغاز کیا جائے گا۔

اس اسکیم کے تحت بے روزگار افراد کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے جبکہ شہریوں کو ماحول دوست سواری بھی دستیاب ہوگی۔

یہ اسکیم پاکستان کی پہلی ٹرانسپورٹ ایکسپو کے موقع پر متعارف کروائی گئی جو پنجاب کے ٹرانسپورٹ 2030 وژن کا حصہ ہے۔

اس منصوبے کا مقصد پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور کاربن کے اخراج میں کمی لانا ہے۔

اسکیم کے تحت نئی گاڑیاں اور الیکٹرک بائیکس متعارف کروائی جائیں گی جبکہ بے روزگار افراد کے لیے آسان ملکیتی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔

ذرائع کے مطابق یہ گاڑیاں اقساط پر دی جائیں گی اور ان پر کوئی سود نہیں ہوگا تاکہ کم آمدنی والے افراد بھی آسانی سے فائدہ اٹھا سکیں۔

بلال یاسین نے مزید بتایا کہ لاہور میں پہلی ٹرام سروس شروع کرنے کی منصوبہ بندی بھی مکمل کر لی گئی ہے جو فروری اگلے سال سے جیل روڈ اور مین بلیوارڈ پر آزمائشی بنیادوں پر چلائی جائے گی بعد ازاں اس کا دائرہ نہر کے اطراف تک وسیع کیا جائے گا۔

ٹرانسپورٹ ایکسپو میں دیگر اہم اقدامات بھی پیش کیے گئے جن میں پنجاب کے تمام اضلاع میں 41 جدید ڈپو کی تعمیر شامل ہے۔

اس کے علاوہ دسمبر 2025 سے الیکٹرک بسیں متعارف کرائی جائیں گی جبکہ 2030 تک مجموعی طور پر 1100 الیکٹرک بسیں اور ٹرامیں سڑکوں پر لانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

ساتھ ہی ڈرائیور کے بغیر خودکار گاڑیوں کے تجربات بھی کیے جائیں گے اور اس مقصد کے لیے 1000 الیکٹرک گاڑی چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے پر کام جاری ہے۔

پنجاب حکومت نے 2030 تک اپنے ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کو 80 فیصد تک الیکٹرک نظام پر منتقل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے جس میں یہ الیکٹرک ٹیکسی اسکیم ایک کلیدی کردار ادا کرے گی۔

Related Posts