پاکستان میں 6 سمتبر کو یوم دفاع جبکہ 7 ستمبر کو یومِ فضائیہ منایا جاتا ہے جو 1965 کی جنگ میں پاک فضائیہ کی جرات مندانہ کارکردگی کی یاد دلاتا ہے۔ 6 ستمبر کو بھارت نے حملہ کیا تو پاکستانی فضائیہ نے فوری ردعمل دیتے ہوئے دشمن کے کئی ہوائی اڈوں پر حملے کیے اور 31 بھارتی طیارے تباہ کیے۔
ایم ایم عالم؛ فضائی تاریخ کا ریکارڈ
7 ستمبر 1965 کو اسکواڈرن لیڈر محمد محمود عالم نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں بھارت کے 5 طیارے مار گرائے جو فضائیہ کی تاریخ میں آج تک ایک ناقابلِ شکست ریکارڈ ہے۔ مجموعی طور پر انہوں نے 9 طیارے تباہ کیے اور انہیں ستارہ جرات اور ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔
سیسل چودھری؛ فرض کا جذبہ
سیسل چودھری نے جنگ کے دوران دشمن کے 3 طیارے گرائے۔ ایک موقع پر ایندھن ختم ہونے کے باوجود جہاز کو بچانے کے لیے اسے گلائیڈ کرتے ہوئے ایئربیس پر اتارا۔ انہیں بھی ستارہ جرات اور تمغہ جرات دیا گیا۔ بعد ازاں وہ تعلیم کے شعبے سے وابستہ رہے۔
سرفراز رفیقی؛ شہادت کی علامت
اسکواڈرن لیڈر سرفراز رفیقی نے ہلواڑا ایئربیس پر حملے کے دوران دشمن کا ایک طیارہ گرایا مگر ہتھیار جام ہونے کے باوجود میدان نہیں چھوڑا اور شہید ہو گئے۔ انہیں ہلال جرات اور ستارہ جرات دیا گیا۔
1965 کی جنگ میں پاکستانی فضائیہ نے دشمن کے 104 طیارے تباہ کیے جبکہ اپنے 19 طیارے کھوئے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عددی لحاظ سے کم ہونے کے باوجود پاک فضائیہ نے بہادری اور مہارت سے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








