چاول کے برآمد کنندگان کی تنظیم (ریپ) نے حالیہ سیلاب سے پنجاب میں چاول کی فصل کو 60 فیصد نقصان پہنچنے کی خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصل نقصان صرف 10 سے 12 فیصد تک محدود ہے۔
ریپ کے سینئر وائس چیئرمین جاوید جیلانی نے وضاحت کی کہ تنظیم کے تخمینے کے مطابق سیلاب سے زیادہ سے زیادہ 6 سے 7 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوئی ہے جو سرکاری اور آزاد سروے رپورٹس کے مطابق ہے۔
انہوں نے کہا کہ 60 فیصد نقصان کی باتیں محض افواہیں اور نقصان دہ پروپیگنڈا ہیں۔
جاوید جیلانی نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ کچھ علاقوں میں فصلیں شدید متاثر ہوئی ہیں لیکن اضافی پانی کی بدولت ان علاقوں میں بہتر فی ایکڑ پیداوار متوقع ہے جہاں پہلے پانی کی کمی کا سامنا تھا۔ یوں بعض صورتوں میں نقصانات جزوی طور پر پورے بھی ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کی چاول کی فصل کے بارے میں منفی اور غیر مصدقہ رپورٹس عالمی منڈی میں نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں کیونکہ بھارت اس وقت کم قیمت پر چاول فروخت کر رہا ہے اور ایسی افواہوں کا فائدہ اٹھا کر عالمی خریداروں کو اپنی طرف کھینچ سکتا ہے۔
ان کے مطابق صرف درست اور تصدیق شدہ معلومات ہی سامنے لائی جانی چاہئیں تاکہ بیرونِ ملک خریداروں کا اعتماد قائم رہے۔
جاوید جیلانی نے مزید بتایا کہ پنجاب میں پانی کی سطح تیزی سے کم ہو رہی ہے اور امکان ہے کہ سندھ بھی حالات کو بہتر طریقے سے سنبھال لے گا۔
انہوں نے کہا کہ ریپ کے اراکین متاثرہ کسانوں اور سیلاب زدگان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں اور امدادی سرگرمیوں میں مکمل تعاون فراہم کریں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








