کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں مون سون کا طاقتور سسٹم داخل ہو چکا ہے جو اب شدت اختیار کرتے ہوئے ڈیپ ڈپریشن کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ یہ سسٹم آج کراچی کے قریبی علاقوں سے گزرتے ہوئے شہر میں 100 ملی میٹر سے زائد بارش برسا سکتا ہے جس کے باعث شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں گزشتہ روز بھی دن بھر وقفے وقفے سے کہیں ہلکی تو کہیں تیز بارش ہوتی رہی جس کے نتیجے میں سال بھر خشک رہنے والی ملیر ندی میں بھی پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا اور سیلابی کیفیت پیدا ہو گئی۔
محکمہ موسمیات کے ترجمان نے بتایا کہ آج کراچی میں بارش کے چار سے چھ اسپیل متوقع ہیں جن میں بعض مقامات پر موسلادھار سے شدید موسلادھار بارش ہونے کا امکان ہے۔
انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ستمبر کے مہینے میں بھارت کی طرف سے سندھ کی جانب کسی ڈیپریشن کا اس انداز میں داخل ہونا ایک غیر معمولی بات ہے اور اس بارش کے سسٹم کا راستہ بھی پیچیدہ ہے جس سے اس کی شدت کا اندازہ لگانا مشکل ہو رہا ہے۔
بارش کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر کراچی کی جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں آج ہونے والے تمام امتحانات ملتوی کر دیئے گئے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے ورک فرام ہوم پالیسی نافذ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ تمام کلاسز آن لائن ہوں گی تاکہ طلبہ و اساتذہ کو محفوظ رکھا جا سکے۔
دوسری طرف حیدرآباد میں بھی موسلادھار بارش نے نظامِ زندگی کو متاثر کیا ہے۔ شہر کی متعدد اہم شاہراہیں اور نشیبی علاقے پانی میں ڈوب گئے ہیں جبکہ گزشتہ چار گھنٹوں سے جاری بارش کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انتظامیہ نے صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلع بھر کے تمام تعلیمی اداروں میں آج تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔
اسی طرح ہالہ، نیو سعیدآباد، بھٹ شاہ اور مٹیاری سمیت دیگر قریبی علاقوں میں بھی موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے جہاں ممکنہ خطرات کے پیش نظر تعلیمی ادارے بند رکھے جا رہے ہیں۔
محکمہ موسمیات اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلیں اور نشیبی یا پانی بھرے علاقوں میں جانے سے گریز کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رہا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








