دارالحکومت میدانِ جنگ تبدیل؛ عوامی دباؤ پر وزیراعظم مستعفی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

نیپال کے وزیرِاعظم کے پی شرما اولی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے دفتر نے استعفیٰ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ قدم ملک میں جاری بحران کے آئینی حل کے طور پر اٹھایا گیا ہے۔

کے پی شرما اولی کے دستخط سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ وہ موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقتدار سے الگ ہو رہے ہیں تاکہ بحران کا آئینی اور پرامن حل نکالا جا سکے۔

Nepal Prime Minister Resigns as Protests Intensify - WSJ

استعفیٰ کے بعد حکومت نے مظاہرین کے لواحقین کو معاوضہ دینے اور زخمیوں کو مفت علاج فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی 15 دن کے اندر واقعہ کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

نیپال میں حالیہ دنوں میں کرپشن اور سوشل میڈیا پر پابندیوں کے خلاف شدید عوامی ردِعمل سامنے آیا ہے۔ مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے جن میں اب تک 19 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ان پرتشدد مظاہروں میں مظاہرین نے موجودہ اور سابق وزرائے اعظم، بشمول کے پی شرما اولی اور شیر بہادر دیوبا کے گھروں کو نشانہ بنایا جبکہ سیاسی جماعتوں کے دفاتر کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

سول سروسز اسپتال کے حکام کے مطابق احتجاجی کارروائیوں میں 90 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں اسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔

صورتحال اس قدر کشیدہ ہو چکی ہے کہ دارالحکومت کھٹمنڈو میں کرفیو کے باوجود ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے جن کی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔

ملک میں جاری کشیدگی کے باعث کھٹمنڈو کا تری بھون ایئرپورٹ بھی متاثر ہوا ہے جسے جزوی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

Related Posts