بارش نے کراچی انتظامیہ کی نااہلی بے نقاب کردی؛ امدادی کارروائی کیلئے فوج طلب

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

کراچی میں حالیہ شدید بارشوں اور تھڈو ڈیم کے بھر جانے کے بعد لیاری اور ملیر ندیوں میں طغیانی آگئی جس کے نتیجے میں کئی رہائشی علاقے زیرِ آب آ گئے۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر میئر کراچی نے رات گئے مختلف متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔

میئر کراچی سپر ہائی وے پر شہباز گوٹھ اور ایم 9 موٹروے تک پہنچے جہاں انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صورتحال کی سنگینی کے پیشِ نظر چیف سیکریٹری کے ذریعے پاک فوج سے مدد کی درخواست کی گئی جس پر فوجی دستے متاثرہ مقامات پر پہنچ چکے ہیں۔

میئر کراچی کے مطابق کچھ گھنٹے قبل پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند تھی تاہم متعلقہ اداروں کی مسلسل کوششوں سے اب صورتحال میں بہتری آ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لیاری ندی کا بھی دورہ کیا گیا جہاں پانی کی سطح میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

Image

ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کی حفاظت اور سہولت کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں، موٹروے کو بند کرنے کا مقصد بھی عوام کو کسی بڑے نقصان سے بچانا ہے۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ آئندہ چند گھنٹوں میں پانی کی سطح مزید کم ہو جائے گی۔

Image

اب تک 200 سے زائد افراد کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ شہر میں چار ریلیف سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جہاں متاثرہ افراد کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی پانی کی نکاسی کا عمل بھی ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے۔

میئر کراچی نے سعدی ٹاؤن سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی کہ وہاں پانی داخل نہیں ہوا اور ایسی خبریں بے بنیاد ہیں۔

دوسری جانب کمشنر کراچی نے احتیاطی تدابیر کے تحت شہر بھر کے اسکول آج بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

Related Posts