جان ابراہام کی فلم تہران پر تنازع؟ جانیے کیا یہ واقعی پاکستان کے خلاف ہے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

حال ہی میں ریلیز ہونے والی جان ابراہام کی فلم تہران کے بارے میں سوشل میڈیا پر یہ تاثر پھیل رہا ہے کہ یہ پاکستان مخالف فلم ہے، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ فلم کے موضوعات اور بیانیہ اس خیال کی تردید کرتے ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق فلم کے ہدایت کار ارون گوپالن اور مرکزی اداکار جان ابراہام دونوں نے واضح کیا ہے کہ ان کی فلم کا مقصد کسی مخصوص ملک کے خلاف پروپیگنڈا کرنا نہیں بلکہ ایک پیچیدہ جاسوسی کہانی کو اجاگر کرنا تھا جس کا محور قومی مفادات اور بین الاقوامی سیاست ہے۔

فلم میں بھارت اور پاکستان کے روایتی تعلقات کو موضوع بنانے کے بجائے ایران، اسرائیل اور بھارت کے مابین کشیدہ اور نازک تعلقات کو کہانی کا مرکز بنایا گیا ہے۔ اس طرح تہران ایک عام حب الوطنی پر مبنی فلم کے بجائے ایک سنجیدہ سیاسی ڈرامہ بن کر ابھرتی ہے جو کسی ایک فریق کو ہیرو یا ولن کے طور پر پیش کرنے کے بجائے مختلف کرداروں کو حقیقت پسندانہ اور متوازن انداز میں دکھاتی ہے۔

جان ابراہام جن کا تعلق ایرانی النسل خاندان سے بھی ہے نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انہوں نے ایران کی تصویر کشی میں انصاف کا دامن نہیں چھوڑا۔ انہوں نے فلم کو سیاسی بنیاد پر متعصب بنانے سے گریز کیا اور کہا کہ وہ ایسے بیانیے سے دور رہنا چاہتے ہیں جو ناظرین کے خیالات پر سیاسی اثر ڈالے۔

ان کے بقول فلم کا اصل پیغام یہ ہے کہ جیو پولیٹیکل تنازعات میں عام انسان ہی سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ تہران درحقیقت ایک پیچیدہ اور گہرائی لیے ہوئے سیاسی تھرلر ہے نہ کہ پاکستان مخالف کوئی فلم۔ یہ فلم تمام فریقین کو ایک جیسے انسانی اور سیاسی زاویے سے دکھاتی ہے اور کسی جانب داری کے بغیر اپنا پیغام دیتی ہے۔

فلم کی کاسٹ میں جان ابراہام، مانوشی چھلر، نیرو بجوا اور مدھورما تولی شامل ہیں، فلم گزشتہ ماہ نیٹ فلیکس پر ریلیز کی گئی تھی جبکہ سینماؤں میں مارچ 2025 کو ریلیز کر دی گئی تھی۔

Related Posts