پنجاب حکومت نے قدرتی آفات خصوصاً سیلاب میں پھنسے افراد کو بچانے کے لیے پاکستان کی پہلی ایمرجنسی ایئرلفٹ ڈرون سروس متعارف کرا دی۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق یہ جدید ڈرون 200 کلوگرام تک وزن اٹھا کر کسی بھی شخص کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی قدرتی آفات کے دوران ریسکیو آپریشن کو زیادہ تیز اور مؤثر بنانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ ہوم سیکریٹری نے ہدایت دی کہ ڈرون کو فوری طور پر ملتان بھیجا جائے جہاں کئی افراد سیلابی پانی میں محصور ہیں۔
جنوبی پنجاب بھیجنے سے قبل سول ڈیفنس نے لاہور میں ڈرون کی کامیاب آزمائشی پروازیں مکمل کیں۔ حکام نے تصدیق کی کہ یہ ڈرون مکمل طور پر فعال ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری استعمال کے لیے تیار ہے۔
ہوم سیکریٹری پنجاب نے اعلان کیا کہ سول ڈیفنس کے لیے مزید 10 ڈرونز خریدے جائیں گے تاکہ قدرتی آفات یا ہنگامی صورتحال میں بروقت ریسکیو اور ریلیف آپریشن یقینی بنایا جا سکے۔
پنجاب حکومت نے سیلاب متاثرین کے لیے ایئر لفٹ ڈرون حاصل کر لیا
جدید ڈرون 200 کلوگرام تک وزنی شخص کو اٹھا کر محفوظ مقام تک منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، حکام pic.twitter.com/Qa85QuEdMU
— A.Waheed Murad (@awaheedmurad) September 10, 2025
ہوم سیکریٹری نے سول ڈیفنس کے اہلکاروں اور رضاکاروں کی تعریف کرتے ہوئے ان کی بہادری اور انسانی جانوں کو بچانے کے عزم کو سراہا۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب سول ڈیفنس ریزیلیئنس کور قائم کی جا رہی ہے جسے جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا تاکہ ریسکیو کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو سکے۔
رضاکاروں کی رجسٹریشن کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اور صرف ایک ہفتے میں 4 ہزار سے زائد افراد نے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے رجسٹریشن کروائی۔
حکام کے مطابق شہری آن لائن پورٹل کے ذریعے رضاکار بن سکتے ہیں اور اپنی صلاحیت کے مطابق خدمات انجام دے سکتے ہیں۔
رجسٹرڈ عملے اور رضاکاروں کو بین الاقوامی معیار کی تربیت اور جدید آلات فراہم کیے جائیں گے تاکہ ریسکیو آپریشن زیادہ مؤثر انداز میں کیا جا سکے۔
ہوم سیکریٹری نے زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی خصوصاً ایئرلفٹ ڈرونز کے استعمال سے پنجاب کی سول ڈیفنس کو ترقی یافتہ ممالک کے معیار کے مطابق بنایا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








