کراچی میں بالغ بچوں کی غذائیت اور ماں کی صحت سے متعلق ایک اہم پایلٹ پروجیکٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں بیماریوں کی بڑی وجہ آلودہ پانی ہے۔
ماہرین کے مطابق ملک میں 68 فیصد بیماریاں صرف صاف پانی کی کمی کے باعث پھیلتی ہیں، اور اگر عوام کو محفوظ اور صحت بخش پانی فراہم کر دیا جائے تو یہ بیماریاں ختم کی جا سکتی ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملک میں سیوریج ٹریٹمنٹ کا مؤثر نظام نہ ہونے کے باعث آلودگی اور بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ سیوریج کے مؤثر انتظام کو قومی پالیسیوں کا حصہ بنایا جائے۔
انہوں نے آبادی میں تیز رفتار اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان میں آبادی کی سالانہ شرح 3.6 فیصد ہے، جو خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ اس تیز رفتار اضافہ نے نہ صرف وسائل پر بوجھ ڈالا ہے بلکہ صحت کے شعبے کو بھی شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔
وزیر صحت نے کہا کہ ملک میں 43 فیصد بچے اسٹنٹنگ کا شکار ہیں، اور پاکستان ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے پورے خطے میں پہلے نمبر پر ہے۔
انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان اب تک پولیو سے مکمل نجات حاصل نہیں کر سکا۔ اس کے ساتھ ہی ہسپتالوں میں روزانہ مریضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے جسے موجودہ نظام سنبھالنے کے قابل نہیں۔
مصطفیٰ کمال نے موجودہ ہیلتھ سسٹم کو “سِک کیئر سسٹم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نظام صرف اس وقت حرکت میں آتا ہے جب مریض بیمار ہو جاتا ہے، حالانکہ ایک مضبوط اور صحت مند ہیلتھ سسٹم کا اصل مقصد بیماری سے پہلے بچاؤ ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام کے تحت وہ دن کبھی نہیں آئے گا جب ریاست تمام بیماروں کا علاج کر سکے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم علاج سے زیادہ احتیاط پر زور دیں۔
وزیر صحت نے کہا کہ ہیلتھ سسٹم سے جڑی تمام اتھارٹیز کو اپنی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا اور ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو صحت مند ماحول کو فروغ دیں اور عوام کو بیماریوں سے قبل ہی تحفظ فراہم کریں۔
انہوں نے کہا کہ وزارت صحت اس وقت خصوصی توجہ اس بات پر دے رہی ہے کہ لوگوں کو بیماریوں سے بچایا جائے، تاکہ سِک کیئر سسٹم کو حقیقی ہیلتھ کیئر سسٹم میں بدلا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ صحت مند پاکستان کی تعمیر کے لیے پائیدار اقدامات کی اشد ضرورت ہے، اور ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جو ماحول کو سازگار اور عوام کو صحت مند زندگی گزارنے کے قابل بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کے بیمار ہونے کا انتظار کرنے کی بجائے، ہمیں انہیں بیماری سے محفوظ رکھنا ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








