بنگلادیش میں تاریخ رقم، 1971 کے بعد ڈھاکا یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ کی فاتحانہ واپسی

تازہ ترین

تازہ ترین

اسلامی چھاترو شبر کے رہنما جیت کے بعد، فوٹو اسکرین گریب

 بنگلا دیش کی سب سے بڑی دانش گاہ ڈھاکا یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے انتخابات میں جماعت اسلامی کے طلبہ ونگ اسلامی چھاترو شِبر (اسلامی جمعیت طلبہ) نے تاریخ ساز کامیابی حاصل کر لی۔ نتائج کے اعلان کے بعد کارکنان نے جوش و خروش سے جشن منایا اور شہداء کے حق میں نعرے بلند کیے۔

جیت کے بعد اسلامی چھاترو شبر کے کارکنان نے اللہ کا شکر ادا کیا اور ان قربانیوں کو یاد کیا جو اکہتر کے بعد سے گزشتہ سال حسینہ واجد کا دھڑن تختہ ہونے تک دی گئیں۔

کارکنان کا کہنا تھا کہ یہ فتح اُن شہداء کی قربانیوں کا تسلسل ہے جنہوں نے اسلام اور حق کی سربلندی کے لیے اپنی جانیں نچھاور کیں، جن میں عبدالمالک شہید جیسے رہنما بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ عبد المالک ڈھاکہ یونیورسٹی میں اسلامی چھاترو شبر کے ذمے دار تھے، جنہیں 15 اگست 1969 کو عوامی لیگ کے غنڈوں نے تشدد کرکے شہید کردیا تھا، انہیں اسلامی جمعیت طلبہ کا پہلا شہید بھی کہا جاتا ہے۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by اسلامی جمعیت طلبہ ایس ایم لاء کالج (@sm.law_jamiat)

چھاترو شِبر کے قائدین کے مطابق یہ کامیابی محض انتخابی فتح نہیں بلکہ ایک نئے دور کی ابتدا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہداء کا خون رائیگاں نہیں گیا اور نئی نسل نے اپنی نظریاتی سمت متعین کر لی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ دن دور نہیں جب یہ سرزمین “لا الہ الا اللہ” کے نور سے روشن ہو گی۔

واضح رہے کہ ملک کی تقسیم سے پہلے جماعت اسلامی اور اس کی طلبہ تنظیم اسلامی چھاترو شبر (اسلامی جمعیت طلبہ) مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) میں ملک کی تقسیم کی مخالف اور پاکستان کی وحدت کی حمایت کر رہی تھیں، جس کی پاداش میں بنگلا دیش کے قیام کے بعد جماعت اسلامی اور اسلامی چھاترو شبر کو بدترین تشدد، قتل اور پھانسیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

بالخصوص حسینہ واجد اور ان کی جماعت عوامی لیگ نے جماعت اسلامی کو ختم کرنے کا تہیہ کر لیا تھا، تاہم آج ثابت ہوا کہ تشدد سے نطریاتی تحریکوں کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کی یونین کے الیکشن کے نتائج اس کی مثال ہیں۔

Related Posts