کراچی میں گزشتہ 3روز سے جاری مسلسل بارشوں نے شہری زندگی کو مفلوج بنا دیا ہے۔ نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے ہیں جبکہ ملیر اور لیاری ندیوں میں پانی کی سطح بلند ہونے سے سیلابی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔
موسلا دھار اور ہلکی بارش نے اہم شاہراہوں اور گنجان آبادیوں کو ڈبو دیا ہے جس سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ۔
محکمہ موسمیات کے ماہر موسمیات انجم نذیر ضیا کا کہنا ہے کہ موجودہ بارشوں کا سبب بننے والا ہوا کا دباؤ آج کمزور ہوکر بحیرہ عرب کی جانب منتقل ہوجائے گاتاہم اس دوران کراچی کے مضافاتی علاقوں میں شدید بارشوں نے نظام زندگی کو درہم برہم کر دیا ہے۔
تھڈو ڈیم کے اوور فلو ہونے سے سپر ہائی وے اور ایم نائن موٹروے کے کئی حصے ڈوب گئے جس کے باعث کراچی اور حیدرآباد کے درمیان ٹریفک معطل ہوگیا۔
نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے مطابق رکاوٹیں ہٹانے اور پانی کے اخراج کے اقدامات کے بعد موٹروے کو جزوی طور پر کھول دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایم نائن موٹروے پر فوری ٹریفک بحال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ادھر گڈاپ اور میمن گوٹھ کے علاقوں میں ہنگامی اقدامات کیے گئے ہیں۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے اعلان کیا کہ تھڈو ڈیم کے پانی کا دباؤ کم ہوگیا ہے جس سے نشیبی علاقوں کی نکاسی میں بہتری آئے گی۔ ملیر ندی کی صورتحال قابو میں ہے لیکن لیاری ندی کے اطراف اب بھی خطرات موجود ہیں۔
ای بی ایم کازوے اور کورنگی کازوے بند ہیں تاہم دیگر اہم راستوں پر جزوی ٹریفک چل رہا ہے۔ ایدھی، چھیپا اور ریسکیو 1122 کے رضاکار پولیس کے ساتھ مل کر شہریوں کی مدد کر رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








