امریکا میں آج سانحہ نائن الیون کی 24 ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ 11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پنٹاگون پر اغواء شدہ مسافر بردار طیاروں کے حملوں نے نہ صرف امریکا کو لرزا دیا بلکہ پوری دنیا میں خون و آگ کا ایسا کھیل شروع ہوا جس نے لاکھوں زندگیاں نگل لیں، کھربوں ڈالر کا نقصان کیا اور عالمی سیاست و معیشت کے نقشے کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔
یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب چار بوئنگ طیارے دہشت گردوں کے قبضے میں آکر امریکی معیشت اور طاقت کی علامت عمارتوں سے جا ٹکرائے۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی بلند و بالا عمارتیں زمین بوس ہو گئیں، پنٹاگون شدید نقصان کا شکار ہوا جبکہ ایک طیارہ پنسلوانیا میں مار گرایا گیا۔
اس ہولناک حملے میں 2977 افراد جان سے گئے۔ اس سانحے کے فوراً بعد عالمی مالیاتی منڈیاں ہل کر رہ گئیں، تیل اور سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، ڈالر کو زوال کا سامنا کرنا پڑا اور دنیا کے بڑے اسٹاک ایکسچینج خسارے میں ڈوب گئے۔
اس واقعے کا الزام القاعدہ اور اسامہ بن لادن پر لگایا گیا جس کے نتیجے میں امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا اور طالبان حکومت کا خاتمہ کر ڈالا۔ بعد ازاں عراق اور شام بھی امریکی جارحیت کی لپیٹ میں آئے جبکہ پاکستان کو بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سب سے بڑا حلیف بنا کر بھاری قیمت چکانے پر مجبور کیا گیا۔
نائن الیون کے بعد امریکی قوانین سخت کر دیے گئے، فضائی سفر کی آزادی سلب ہوگئی اور مسلمانوں پر زمین تنگ کر دی گئی، اس سانحہ کو 24 سال گزرنے کے باوجود یادیں اور اثرات آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








