پنجاب پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے رپورٹ جاری کی ہے کہ صوبے کے بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں کمی آئی ہے جس سے سیلاب کے مزید خدشات کم ہو گئے ہیں۔
حکام کے مطابق مون سون کی بارشوں کی شدت کم ہو چکی ہے اور آئندہ دنوں میں کسی بڑی بارش کا امکان نہیں ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب کے مختلف مقامات پر دریاؤں کے بہاؤ میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ بالائی علاقوں میں بارشیں بھی کم ہو گئی ہیں جو پہلے پانی کی سطح میں اضافے کا سبب بن رہی تھیں۔ ستلج دریا میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 82 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دریائے چناب میں مرالہ پر 50 ہزار کیوسک، کھنکی ہیڈ ورکس پر 92 ہزار کیوسک اور ہیڈ قادرآباد پر 94 ہزار کیوسک پانی بہہ رہا ہے۔ ہیڈ تریموں پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 78 ہزار کیوسک ہے جو کمی کی طرف جا رہا ہے تاہم پنجند کے مقام پر پانی کا بہاؤ بڑھ کر 6 لاکھ 60 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔
دریائے راوی میں ہیڈ سدھنائی پر پانی کی سطح میں کمی دیکھی گئی ہے جبکہ جسر کے مقام پر پانی کا بہاؤ 23 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں سیلاب کے باعث دریائے راوی، ستلج اور چناب کے کنارے واقع 4 ہزار 500 سے زائد دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں سے 2 ہزار 315 مقامات چناب کے کنارے، 666 مقامات ستلج کے اطراف اور 1 ہزار 495 مقامات دریائے راوی کے ساتھ واقع ہیں۔
مجموعی طور پر تقریباً 42 لاکھ 87 ہزار افراد متاثر ہوئے جن میں سے 22 لاکھ 62 ہزار سے زائد افراد کو ریسکیو ٹیموں نے محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
ریلیف اور ریسکیو آپریشنز کے تحت پنجاب ریلیف کمشنر نبیل جاوید نے بتایا کہ سیلاب متاثرہ اضلاع میں 396 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ 490 میڈیکل کیمپس اور 412 ویٹرنری کیمپس بھی قائم کیے گئے تاکہ متاثرہ افراد اور مویشیوں کو سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ اب تک 16 لاکھ 96 ہزار جانوروں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
پاکستان اور بھارت میں ڈیموں کی صورتحال بھی تشویش ناک بتائی گئی ہے۔ پاکستان میں منگلا ڈیم 90 فیصد جبکہ تربیلا ڈیم 100 فیصد بھر چکا ہے۔ دوسری جانب بھارت میں ستلج پر بھاکرا ڈیم 90 فیصد، پونگ ڈیم 99 فیصد اور تھیئن ڈیم 97 فیصد بھر چکے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








