کراچی کے علاقے ملیر جام گوٹھ میں زیرِ تعمیر شاہراہِ بھٹو کا ایک حصہ جوکہ حالیہ سیلابی ریلے سے بہہ گیا تھا اب مزید بگڑتا جا رہا ہے۔ مقامی افراد نہ صرف نقصان زدہ جگہ سے ریت اور مٹی بہا لے جانے کی شکایت کر رہے ہیں بلکہ اطلاعات کے مطابق کچھ افراد تعمیراتی سریا (ریبار) کو بھی موقعے سے چرا کر لے جا رہے ہیں۔
منگل اور بدھ کی درمیانی شب ملیر ندی میں آنے والے اچانک سیلاب نے اس سڑک کو شدید متاثر کیا۔ تیز بہاؤ کے باعث زیرِ تعمیر سڑک کا ایک بڑا حصہ پانی میں بہہ گیا جس سے تعمیراتی منصوبے کی معیار، منصوبہ بندی اور نگرانی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
اس حوالے سے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ شاہراہِ بھٹو تین مرحلوں پر مشتمل منصوبہ ہے جن میں سے دو مکمل ہو چکے ہیں اور ان پر ٹریفک جاری ہے جبکہ تیسرے مرحلے پر کام جاری تھا جہاں یہ نقصان ہوا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ لوگ اس متاثرہ مقام پر جا کر ویڈیوز بنا رہے ہیں تاکہ صورتحال کو سیاسی رنگ دیا جا سکے۔
مرتضیٰ وہاب نے یہ بھی کہا کہ قدرتی آفات کے دوران بعض سیاسی عناصر اپنے بیانیے کو فروخت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ انتہائی نامناسب طرزِ عمل ہے۔
دوسری جانب ترجمان حکومتِ سندھ، سعدیہ جاوید نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ شاہراہِ بھٹو بارش یا سیلاب کے باعث مکمل طور پر زیرِ آب آ گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں اور صورتحال کو بلاوجہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








