کراچی کے علاقے قیوم آباد میں ایک دل دہلا دینے والا جنسی استحصال کا کیس منظر عام پر آیا ہے جہاں 28 سالہ ملزم شبیر احمد تنولی کو 100 سے زائد کمسن بچیوں (عمر 5 سے 13 سال) کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے، ان واقعات کی ویڈیوز ریکارڈ کرنے اور ایک منظم طریقے سے جرائم جاری رکھنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ملزم خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد کا رہائشی ہے نے تفتیش کے دوران اپنے جرائم کا اعتراف کر لیا اور پولیس کے مطابق یہ کیس کراچی کی تاریخ کے سب سے بڑے اور گھناؤنے جنسی اسکینڈلز میں سے ایک ہے جس سے کم از کم 70 سے 100 خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ گزشتہ 10 سالوں سے جاری یہ جرائم ایک متاثرہ بچی کی ہمت سے سامنے آئے جب اس نے ملزم کے گھر سے ایک یو ایس بی چوری کر لیا اور اسے ایک مقامی دکان پر لے گئی۔ گزشتہ ہفتے کے دوران ملزم کے خلاف چار الگ الگ مقدمات درج کیے جا چکے ہیں اور عدالت نے اسے پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
ڈیفنس پولیس نے ملزم کو قیوم آباد کے بی-ایریا سے مقامی لوگوں کی مدد سے حراست میں لیا جہاں اسے عثمانیہ مسجد کے قریب پکڑنے کے بعد علاقہ مکینوں نے تشدد کا نشانہ بھی بنایا تھا۔ ایس ایس پی ساؤتھ مہزور علی اور ڈی آئی جی ساؤتھ سید اسد رضا نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملزم 2011 میں ایبٹ آباد سے کراچی منتقل ہوا اور ابتدائی طور پر نیلم کالونی میں رہائش پذیر رہا، جہاں اس کا ایک دوست آصف (جو 2016 میں ایک ٹریفک حادثے میں ہلاک ہو گیا) اسے بچوں سے زیادتی کے جرائم میں ملوث کیا۔ 2016 میں نیلم کالونی چھوڑ کر قیوم آباد منتقل ہونے کے بعد، ملزم نے ایک کمرہ اور ایک دکان کرائے پر لی اور شربت/جوس کا ٹھیلہ لگانا شروع کیا۔ وہ اپنے ٹھیلے پر آنے والے کمسن بچوں کو چند سو روپے کا لالچ دے کر یا دھمکیاں دے کر اپنے کوارٹر میں لے جاتا جہاں وہ اکیلا رہتا تھا اور دروازہ بند کر کے زیادتی کرتا۔ پولیس نے ملزم کے قبضے سے ایک موبائل فون، ایک یو ایس بی ڈرائیو اور ایک ڈائری برآمد کی ہے جس میں متاثرین کے نام عمریں، نسلی تفصیلات اور واقعات کی تاریخوں کا اندراج ہے۔ موبائل اور یو ایس بی سے 100 سے 400 تک نازیبا ویڈیوز اور تصاویر برآمد ہوئی ہیں، جن میں سے کچھ 2017 سے تعلق رکھتی ہیں جبکہ زیادہ تر 2019 سے 2024 کے درمیان ریکارڈ کی گئیں۔ یہ تمام مواد فارنزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ ان ویڈیوز کی مدد سے مزید متاثرین کی شناخت کی جا رہی ہے۔
کیس کیسے سامنے آیا؟
یہ ہولناک کیس اس وقت منظر عام پر آیا جب ایک 7 سالہ متاثرہ بچی نے ملزم کے کوارٹر سے ایک یو ایس بی ڈرائیو چوری کر کے اپنے ساتھ لے گئی۔ بچی نے اس یو ایس بی کو محلے کی ایک دکان پر لے جا کر فلمیں یا ڈرامے ڈاؤن لوڈ کرانے کی کوشش کی۔ دکاندار نے یو ایس بی چیک کرنے پر اس میں بچوں کی زیادتی کی تقریباً 200 ویڈیوز دیکھیں جن میں سے کچھ میں بچی خود بھی شامل تھی۔ دکاندار نے فوری طور پر اہلِ محلہ کو جمع کیا معاملہ بتایا اور ملزم کو پہچان لیا جو شربت فروش کے طور پر مشہور تھا۔ علاقہ مکینوں نے ملزم کو پکڑ لیا اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر ڈیفنس پولیس کے حوالے کر دیا۔ ایس ایچ او ڈیفنس غلام نبی آفریدی نے بتایا کہ اگر یہ کمسن بچی یو ایس بی نہ چوری کرتی اور اسے مووی ٹرانسفر کے لیے نہ لاتی تو خدا جانے یہ گھناؤنے جرائم کتنے عرصے تک چھپے رہتے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کے گھر سے مزید شواہد برآمد کیے۔
متاثرین کی شکایات اور مقدمات کی تفصیلات
گزشتہ ہفتے کے دوران ملزم کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 376 (زنا بالإجبار) اور دفعہ 376(3) (کمسن یا معذور افراد سے زیادتی، جس کی سزا موت یا عمر قید ہے) کے تحت چار ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں۔ ابتدائی شکایات سے پتہ چلتا ہے کہ ملزم نے علاقے کے بچوں کو اپنے ٹھیلے پر جوس یا شربت کی آڑ میں قریب کیا اور پھر انہیں اپنے مکان نمبر 1، سیکٹر قیوم آباد (کورنگی روڈ) یا گلی نمبر 18، سی-ایریا میں واقع کوارٹر میں لے جاتا۔ متاثرین کی والدین نے تھانہ ڈیفنس میں رپورٹس درج کروائیں جن کی تفصیلی خلاصہ درج ذیل ہے۔
پہلی شکایت (مورخہ 2 ستمبر 2025): ایک رہائشی کباڑی کی دکان پر ملازم ہے نے بتایا کہ اس کی 10 سالہ بیٹی (ک) اور 12 سالہ بیٹی (ص) کئی دنوں سے پریشان تھیں اور پیشاب کی جگہ پر شدید درد کی شکایت کر رہی تھیں۔ بچیوں نے والدہ کو بتایا کہ عثمانیہ مسجد کے سامنے والی گلی میں رہنے والا شبیر، جو شربت کی ریڑھی لگاتا ہے ان کے ساتھ غلط حرکات کرتا ہے اور ویڈیوز بھی بناتا ہے۔ ملزم نے 2 ستمبر 2025 کو دوپہر ساڑھے 12 بجے اپنے گھر میں 10 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی۔ ایس ایچ او انچارج محمد نوید نے رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا۔
دوسری شکایت (مورخہ 18 مئی 2022، تازہ رپورٹ 2025) ایک غریب مزدور جوکہ پرائیویٹ ملازمت کرتا ہے نے بتایا کہ اس کا 15 سالہ بیٹا (جو اب آٹھویں جماعت کا طالب علم ہے) 2022 میں 12 سال کی عمر میں شبیر ولد شفیق (شبیر تنولی) کے گھر مکان نمبر 1، سیکٹر قیوم آباد لے جایا گیا جہاں زیرِ دستی بدفعلی کی گئی۔ غربت کی وجہ سے بروقت رپورٹ نہ کی گئی لیکن اب ملزم کی شناخت ہو گئی ہے۔ والد نے ملزم کو سامنے دیکھ کر شناخت کی۔
تیسری شکایت (مورخہ 4 ستمبر 2025): ایک مزدور جو رنگ کا کام کرتا ہے نے بتایا کہ اس کی 7 سالہ بیٹی (ک) 4 ستمبر 2025 کو رات 8 بجے گھر سے باہر گئی اور واپس آنے کے بعد ایک ہفتے سے گم سم اور جسم میں درد کی شکایت کر رہی تھی۔ بچی نے والدہ کو بتایا کہ جوس کی ریڑھی لگانے والا لڑکا اس کے ساتھ گندے کام کرتا ہے۔ والد نے بچی کو لے کر گلی نمبر 18، سی-ایریا پہنچا جہاں بچی نے ملزم کا گھر (تالا لگا ہوا) نشاندہی کیا۔ آس پاس کی معلومات سے ملزم کا نام شبیر احمد ولد محمد شفیق معلوم ہوا۔ مقدمہ زنا کا درج کیا گیا۔
چوتھی شکایت: ایک اور 10 سالہ بچی کی فیملی نے شکایت درج کروائی کہ ملزم نے اسے بھی زیادتی نشانہ بنایا۔ اب تک کم از کم پانچ خاندانوں نے باضابطہ شکایات درج کروائی ہیں اور پولیس کا کہنا ہے کہ ویڈیوز کی بنیاد پر مزید خاندانوں سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ ایک متاثرہ خاندان کے سربراہ نے بتایا کہ ان کی دو بیٹیوں کے ساتھ بھی ملزم نے 2022 میں زیادتی کی تھی اور اس کی ایف آئی آر درج ہے۔ پولیس نے متاثرین کے میڈیکل معائنہ کا اہتمام کیا ہے اور انہیں نفسیاتی مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ملزم کا پس منظر، اعترافات اور ممکنہ نیٹ ورک
شبیر احمد تنولی ولد محمد شفیق ہے غیر شادی شدہ ہے اور اکیلا رہتا تھا۔ تفتیش میں ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال (2016 سے) سے 5 سے 12 سال کی عمر کی بچیوں کو 100 سے 500 روپے دے کر یا دھمکیاں دے کر اپنے کوارٹر میں لاتا زیادتی کرتا اور ویڈیوز بناتا رہا۔ اس نے ایک ڈائری میں تقریباً 70 سے 85 متاثرین کی تفصیلات نوٹ کی تھیں جن میں نام، عمریں اور نسلی پس منظر شامل ہیں۔ ملزم نے بتایا کہ اسے یہ عادت اس کے فوت شدہ دوست آصف نے لگائی تھی جو ٹریفک حادثے میں ہلاک ہو چکا ہے۔ ایس ایس پی ساؤتھ مہزور علی نے بتایا کہ ملزم نے ابتدائی تفتیش میں بتایا کہ اس نے علاقے کی 60-70 بچیوں سے زیادتی کی ہے اور فورنزک تجزیہ جاری ہے۔ پولیس حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ملزم کا تعلق ڈارک ویب سے ہو سکتا ہے جہاں ایسی ویڈیوز فروخت کی جاتی ہیں کیونکہ اس کے پاس کوئی لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر نہیں ملا جو اشارہ دیتا ہے کہ دیگر افراد بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔ پولیس حکام نے کہا کہ ملزم نے غریب خاندانوں کی بچیوں کو کم پیسوں کا لالچ دے کر دکان کے شٹر گرا کر زیادتی کی اور تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں میڈیکل معائنہ ہو رہا ہے اور مجرم کو سزا دلانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ ڈی آئی جی ساؤتھ سید اسد رضا نے ملزم کو کراچی کے بدترین جنسی مجرموں میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ تفتیش جاری ہے مزید ہولناک انکشافات متوقع ہیں۔
پولیس کارروائی، عدالتی فیصلہ اور معاشرتی اثرات
مقامی عدالت نے ملزم کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے اور 17 ستمبر تک پیشرفت رپورٹ طلب کی ہے۔ ایس ایس پی مہزور علی نے بتایا کہ ملزم 2016 سے منظم طور پر بچوں کو نشانہ بنا رہا تھا اور اس کی مدد سے دیگر متاثرین کی تلاش کی جا رہی ہے۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کوئی اور متاثر ہے تو آگے آئے اور رازداری کی ضمانت دی گئی ہے۔ یہ کیس کراچی کے قیوم آباد علاقے میں خوف کی لہر دوڑا رہا ہے، جہاں والدین اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے فکر مند ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کی تعداد 70 سے 100 کے قریب بتائی جا رہی ہے جن میں سے کئی غریب مزدور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو بروقت رپورٹ نہ کرنے کی وجہ سے خاموش رہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں جیسے ساحل اور ایس ایس ڈی او نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے جرائم کے خلاف سخت قوانین نافذ کیے جائیں اور متاثرین کو فوری طبی، قانونی اور نفسیاتی امداد دی جائے۔ ساحل کی رپورٹ کے مطابق، 2023 میں پاکستان بھر میں روزانہ 11 بچوں سے زیادتی کے کیسز رپورٹ ہوئے جن کی کل تعداد 4,213 تھی۔ یہ کیس 2006-2015 کے قصور اسکینڈل کی یاد تازہ کرتا ہے جہاں سیکڑوں بچوں کی ویڈیوز گردش میں آئی تھیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کیس نہ صرف ملزم کی گرفتاری پر ختم نہیں ہوگا بلکہ پورے ممکنہ نیٹ ورک کی کھوج جاری رہے گی جس سے مزید انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








