بھارتی ریاست تلنگانہ کے ضلع جگتیال کے علاقے پیگڈاپلی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں تحصیلدار (ایم آر او) رویندر نائیک پر خاتون ساتھی ملازمہ کو جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
متاثرہ خاتون نے پولیس کو دی گئی شکایت میں بتایا کہ رویندر نائیک نے نہ صرف سرکاری کام کے دوران انہیں ہراساں کیا بلکہ واٹس ایپ پر فحش پیغامات بھیجے اور غیراخلاقی فون کالز بھی کیں۔
خاتون کی شکایت پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم ایم آر او کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار افسر کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے رویندر نائیک کو 14 روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم جاری کیا۔
یہ واقعہ سامنے آنے کے بعد محکمہ جاتی حلقوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے جبکہ سرکاری خواتین ملازمین نے متاثرہ خاتون سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو سخت سزا دی جائے اور خواتین کو کام کی جگہ پر تحفظ فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








